دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 467

کرتا ہے۔باری کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے مختلف ظہور شروع کرتا ہے اور پھر وہ ایک ایسا قانون مقرر کردیتا ہے کہ وہ چیز اپنی نسل کی تکرار کرتی چلی جاتی ہے اور اس پر خدا تعالیٰ کا نام المعید دلالت کرتا ہے۔المصور کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک خاص شکل دی ہے جو اس کے مناسب حال ہے۔صرف کسی چیز کے اندر کسی خاصیت کا پیدا کردینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے مناسب حال شکل دینا بھی ضروری ہوتا ہے اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔اسی طرح کسی چیز کا محض پیدا ہوجانا کافی نہیں بلکہ اس کا ایسی شکل میں پیدا ہونا بھی کہ وہ اپنے کام کو سرانجام دے سکے ضروری ہوتا ہے پس اس صفت کے اظہار کے لئے خدا تعالیٰ کا ایک نام المصور ہے۔الرَّبّ کی صفت ان معنوں پر دلالت کرتی ہے کہ پیدا کرنے کے بعد اس کی طاقتوں کو تدریجی طور پر بڑھاتے چلے جانا اور کمال تک پہنچانا۔ظاہر ہے کہ پہلی صفات اس مضمون کو ادا نہیں کرتیں۔اسی طرح اور کئی صفات ہیں جو بظاہر مکرر نظر آتی ہیں مگر درحقیقت ان کے اندر باریک فرق ہے اور اس فرق کے سمجھ لینے کے بعد وہ روحانی نظام جس کو قرآن کریم پیش کرتا ہے نہایت ہی شاندار اور خوبصورت طور پر انسان کی آنکھوں کے آگے آجاتا ہے۔یہ صفات جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور جن کا ایک حصہ میں نے اوپر درج کیا ہے انجیل میں تو ان کا بہت ہی کم ذکر ہے۔تورات اور دوسرے انبیاء کے صحف میں بھی فرداً فرداً یہ ساری صفات بیان نہیں ہوئیں ہاں بنی اسرائیل کے تمام انبیاء کی کتابوں کو جمع کیا جائے تو پھر ان میں سے بہت سی صفات کا ذکر ان میں آجاتا ہے مگر ساری صفات کا ذکر پھر بھی نہیں آتا۔درحقیقت مسلمانوں میں جو عام طور پر یہ مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یہ عقیدہ ان یہودی روایات سے ہی وابستہ ہے جو انہوں نے تورات سے صفات الٰہیہ اخذ کرکے بنائی ہیں ورنہ قرآن کریم میں ننانوے سے بہت زیادہ نام مذکور ہیں جن میں سے ایک سَو چار نام تو میں نے اوپر بیان کردیئے ہیں اور ابھی بہت سے باقی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جن کا ا نسان کے ساتھ تعلق نہیں ان کے قرآن کریم میں بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا اور یقینا وہ قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئیں پس کسی خاص تعداد میں خدا تعالیٰ کے ناموں کو محددو کرنا درست نہیں اور اگر اسلامی لٹریچر میں اِس قسم کا کوئی ذکر پایا جاتا