دیباچہ تفسیر القرآن — Page 460
جس طرح ابتداء اس نے کی تھی اسی طرح انتہاء بھی اُس نے اپنے قبضہ میں رکھی ہوئی ہے۔بنی نوع انسان اور دوسری مخلوق ہر چیز میں عارضی اور وقتی تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں لیکن حقیقی اور مستقل تغیر پیدا نہیں کر سکتے۔مثلاً جس طرح انسان مادہ اور روح کے پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ان کے فنا کرنے پر بھی انسان قادر نہیں۔وہ اس کے اندر عارضی تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے، وہ شکلیں بدل سکتا ہے لیکن وہ ان چیزوں کو فنا نہیں کر سکتا۔جس طرح خلق کی صفت اپنی تمام صفات کے ساتھ اللہ تعالیٰ میں ہی پائی جاتی ہے اِسی طرح اِفناء کی صفت بھی اپنی تمام صفات کے ساتھ کُلّی طور پر اُسی میں پائی جاتی ہے کوئی چیز کُلّی طور پر فنا نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ اس کے فنا کرنے کا فیصلہ نہ کرے اور یہ دونوں حقیقتیں ایسی ظاہروباہر ہیں کہ کسی انسان کواس سے انکار نہیں ہو سکتا۔فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کے وقت کامالک ہے یعنی تمام تغیرات کا آخری فیصلہ اس کے اختیار میں ہے اور وہ یہ فیصلہ اپنے مالک ہونے کی حیثیت سے کرتا ہے یعنی جس طرح ایک جج اس لئے اپنے فیصلہ میں مجبور ہوتا ہے کہ وہ زید اور بکر کے حقوق کا فیصلہ کرنے والا ہوتا ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ مجبور نہیں ہوتا کیونکہ جہاں تک انسان کے حقوق کا سوال ہے وہ اس کے سارے حق پور ے کرنے کے لئے تیار ہے لیکن دوسری طرف جہاں تک خدا تعالیٰ کے حقوق کا سوال ہے اللہ تعالیٰ مشہور روایتی ’’ بونڈ آف فلیش‘‘ پر اصرار نہیں کرتا بلکہ جیسے مالک رعایت اور حسن سلوک اور رحم سے کام لیتا ہے اور لے سکتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے قصور پر عفو اور درگزر سے کام لیتا ہے۔اس صفت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے عیسائیت میں کفارے جیسا غلط عقیدہ پید اہو گیا۔عیسائی مذہب اس بات پر زور دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کا گناہ معاف نہیں کرسکتا اور اس کا قیاس وہ انسانی ججوں پر کرتے ہیں۔حالانکہ جج دو جھگڑنے والوں کے درمیان فیصلہ کیا کرتا ہے اور خود اُن کی چیزوں میں سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔لیکن اللہ تعالیٰ اور بندے کا معاملہ ایسا ہے کہ ایک طرف تو خدا کا حق ہے اور ایک طرف بندے کا حق ہے۔خدا تعالیٰ کو خالی جج کی حیثیت حاصل نہیں بلکہ اس کو مطالبہ کرنے والے اور حق مانگنے والے کی حیثیت حاصل ہے جو جج کو حاصل نہیں ہوتی کیونکہ وہ خود مطالبہ کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ مطالبہ کرنے والے اور مدعا علیہ کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہوتا ہے لیکن بندے اور خدا تعالیٰ