دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 459

جدا ہے اس لئے مادی ذرائع سے اُسے دیکھنے کی کوشش کرنا بالکل عبث ہے۔پھر قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ہستی اپنے تمام ارادوں کے پورا کرنے پر قادر ہے فرماتا ہے۵۷۳؎ اللہ تعالیٰ ہر ایک چاہی ہوئی بات پر قادر ہے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ہر چیز پر قادر ہے کیونکہ ایسے الفاظ کے استعمال سے بہت سے لوگ نادانی سے غلط اعتراض شروع کر دیتے ہیں مثلاً یہ کہ کیا خدا مرنے پر قادر ہے؟ یا کیا اپنی مانند ایک اور خدا بنانے پر قادر ہے؟ حالانکہ یہ چیزیں تو گھنائونی اور ناپسندیدہ ہیں۔اعلیٰ اور کامل ہستی گھنائونے اور ناپسندیدہ کام نہیں کیا کرتی۔بہر حال ایسے لوگوں کے اعتراضوں کو حل کرنے کے لئے قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر فعل پر قادر ہے بلکہ فرماتا ہے ہر اس بات پر خدا تعالیٰ قادر ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے کیونکہ خدا بوجہ کامل ہونے کے کامل باتوں ہی کا ارادہ کرتا ہے اس قسم کا بیوقوفانہ ارادہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے آپ کو فنا کر دے یا اپنے جیسا کوئی خدا بنا لے۔خدا تعالیٰ کی چار صفات قرآن کریم کی پہلی سورۃ سورۃ فاتحہ ہے۔اس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کس طرح عمل کرتی ہیں۔اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں چار صفات کے اِردگرد گھومتی ہیں اور وہ چار صفات یہ ہیں۔(۱) وہ رَبِّ الْعٰلَمِیْن ہے یعنی ہر ایک چیز کو پیدا کرتا ہے اور پیدا کر کے ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر اُسے اعلیٰ حالت تک پہنچاتا ہے۔(۲) وہ رَحْمٰن ہے یعنی تمام ایسے ذرائع بغیر مخلوق کی کسی کوشش اور بغیر اُس کے استحقاق کے مہیا فرماتا ہے جن کے بغیر مخلوق کی ترقی ناممکن ہوتی ہے۔(۳) وہ رَحِیْم ہے یعنی وہ تمام مخلوق جو عقل اور ارادہ رکھتی ہے جب اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے ایک نیک رستہ کو پسند کر لیتی ہے اور بُرائی کا مقابلہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے فعل کا نہایت اعلیٰ بدلہ دیتا ہے اور نیکیوں کا بدلہ متواتر دیتا چلا جاتا ہے۔(۴) وہ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّ یْن ہے یعنی ہر چیز کا آخری فیصلہ اُس نے اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے