دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 449

کے حکم سے پیدا کی گئی ہے اورروح کے متعلق تمہارا علم بہت تھوڑا ہے۔اِس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ ارواح ایک ازلی ابدی چیز ہیں اور کسی علیحدہ دنیا میں رکھی گئی ہیں پھر وہاں سے وقتاً فوقتاً وہ انسانی اجسام میں آکر داخل ہوتی رہتی ہیں صحیح بات یہ ہے کہ جیسے اَور چیزیں خدا تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوتی اور اُس کے حکم کے ماتحت ترقی کرتی ہیں اسی طرح روح بھی خدا تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوتی اور اُس کے حکم سے ترقی کرتی ہے روح کی پیدائش جسمانی پیدائش سے کوئی علیحدہ قسم کی چیز نہیں بلکہ جس قسم کا تغیر اور تبدل جو جسمانیات کے ارتقاء کیلئے ہوتا ہے وہی روحانی پیدائش کا بھی موجب ہو جاتا ہے اور پھر روح کی ترقی اور بلندی کا باعث بھی۔اس مسئلہ کو تشریح کے ساتھ قرآن کریم نے دوسری جگہ سورہ مؤمنون میں بیان فرمایا ہے وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۵۶۳؎ ہم نے انسان کو مٹی سے نکلے ہوئے خلاصہ سے بنایا ہے پھر گیلی مٹی میں سے نکلے ہوئے ایک خلاصہ سے بنایا ہے پھر ہم نے اُسے نطفہ کی شکل میں تبدیل کر دیا جو نطفہ ایک مقررہ جگہ پر رہتا ہے تو ہم اس نطفہ کو ایک گاڑھی چیز بنا دیتے ہیں جو چمٹ جاتی ہے پھر وہی چمٹی ہوئی چیز ایک لچکدار چیز بن جاتی ہے پھر اس لچکدار چیز میں ہڈیاں پیدا ہونے لگ جاتی ہیں پھر ان ہڈیوں پر تازہ گوشت چڑھنے لگ جاتا ہے پھر اسی چیز میں سے ایک بالکل ہی غیر نظر آنے والی چیز (یعنی روح) بن جاتی ہے پس کیا ہی برکت والا وہ خدا ہے جس نے ایسے اعلیٰ رنگ میں انسان کو پید اکیا ہے۔اس جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ انسانی پیدائش درحقیقت انہیں چیزوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے جو کہ انسان کھاتا اور پیتا ہے۔اِنہی چیزوں سے انسان کے جسم میں کچھ ایسا مادہ تیار ہوتا ہے جو انسان اور دوسرے حیوانات کے پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے جب یہ مادہ رحمِ مادر میں جاتا ہے تو جس مادہ میں تکمیل کی طاقت پائی جاتی ہے وہ ماں کے رحم کے ایک حصہ سے چمٹ جاتا ہے اور وہاں سے اس کے اندر غذا آنی