دیباچہ تفسیر القرآن — Page 448
بھی قابلیت نہیں رکھتا اس کیلئے اسلام مؤمنوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی مدد کریں اور اس کو قید سے جلد آزاد کرانے کی صورت پیدا کریں لیکن اگر کوئی ایسا قیدی اپنے لئے آزادی کو پسند نہیں کرتا اور ایک مسلمان کے گھر میں رہنے کو اپنے وطن میں واپس جانے پر ترجیح دے تو قرآن کریم حکم دیتا ہے کہ اس کے ساتھ انصاف کا سلوک کیا جائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی یہ تشریح فرماتے ہیں کہ جیسا کھانا تم خود کھاتے ہو ویسا ہی کھانا اسے کھلاؤ اور جیسے کپڑے تم خود پہنتے ہو ویسے ہی کپڑے اسے پہناؤ اور جس سواری پر تم خود چڑھتے ہو اُس سواری پر اُسے چڑھاؤ۔قرآن کریم قوموں میں مساوات پر خاص زور دیتا ہے قرآن پہلی کتاب ہے جس نے بنی نوع انسان کو بحیثیت بنی نوع انسان کے ایک گروہ قرار دیا ہے۔قرآن کہتا ہے جوکہ انسانوں کی مختلف قومیں ہیں اور مختلف ملک ہیں یہ صرف پہچاننے کے لئے ہیں حقیقتاً تمام انسان ایک درجہ کے ہیں اور ان کو ایک درجہ دینا چاہیے اور فرماتا ہے کہ کوئی قوم اپنے نسلی امتیاز کی وجہ سے دوسری قوم پر اپنے آپ کو فوقیت نہ دے۔کوئی گروہ اپنی اقتصادی ترقی یا کسی اوروجہ سے دوسرے سے اپنے آپ کو ممتاز نہ سمجھے ورنہ ایسے لوگ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کا قانون ایک دن ان کو ضرور نیچا کردے گااور جن کووہ ادنیٰ سمجھتے ہیں اُن کو وہ ان پر فوقیت عطا کردے گا۔کیسی اعلیٰ درجہ کی یہ تعلیم ہے اور دنیا میں امن کے قیام کا کیسا بہترین ذریعہ ہے۔قرآن کریم اُن تمام لہو و لعب کی چیزوں سے روکتا ہے جو انسان کے سنجیدگی سے کام کرنے کے راستہ میں حائل ہوتی ہیں وہ جوا اور شراب اور ہرقسم کی لہوو لعب کی باتوں سے منع کرتا ہے وہ مردوں کو زیورات اور ریشم پہننے سے روکتا ہے اور عورتوں کو نہایت ہی محدودطور پر اس کی اجازت دیتا ہے۔پیدائش روح کے متعلق قرآنی تعلیم قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جو انسان کی روح اور اس کی پیدائش کے متعلق مکمل بحث فرماتی ہے اس بارہ میں دوسری کتب یا تو خاموش ہیں یا قیاس آرائیوں پر اکتفا کرتی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق ایک مکمل بحث فرمائی ہے چنانچہ فرماتا ہے۵۶۲؎ لوگ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں تُو انہیں جواب میں کہہ کہ روح اللہ تعالیٰ