دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 398

کہتے چلے گئے کہ تم قیامت کے دن کیا جواب دو گے جب اُس کا لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُتمہارے سامنے پیش کیا جائے گا۔اُسامہؓ کہتے ہیں اُس وقت میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش! میں آج ہی اسلام لایا ہوتا اور یہ حرکت مجھ سے سرزد نہ ہوئی ہوتی۔۵۰۹؎ گناہوں کی معافی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا احساس تھا کہ جب کچھ لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہؓ پر اتہام لگایا اور ان اتہام لگانے والوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا جس کو حضرت ابوبکرؓ پال رہے تھے۔جب یہ الزام جھوٹا ثابت ہوا تو حضرت ابوبکرؓ نے غصہ میں اُس شخص کی پرورش بند کردی جس شخص نے آپ کی بیٹی پر الزام لگایا تھا تو دنیا کا کونسا شخص اِس کے سوا کوئی اور فیصلہ کر سکتاتھا بہت سے لوگ تو ایسے آدمی کو قتل کر دیتے ہیں مگر حضرت ابوبکرؓ نے صرف اتنا کیا کہ اُس شخص کی آئندہ پرورش بند کردی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حضرت ابوبکرؓ کو سمجھایا اور فرمایاکہ اس شخص سے غلطی ہوئی اور اس نے گناہ کیا مگر آپ کی شان اِس سے بالا ہے کہ ایک بندے کے گناہ کی وجہ سے اُس کو اس کے رزق سے محروم کردیں۔چنانچہ حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاد کے ماتحت پھر اُس کی پرورش کرنے لگے۔۵۱۰؎ صبر آپ فرمایا کرتے تھے کہ مؤمن کے لئے تو دنیا میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور سوائے مؤمن کے یہ مقام اور کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔اگر اُسے کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ خدا کا شکر اداکرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے اور اگر اُسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور اس طرح بھی خدا تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔۵۱۱؎ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا اور آپ بیماری کی تکلیف کی وجہ سے آپ کراہ رہے تھے تو آپ کی بیٹی فاطمہؓ نے ایک دفعہ بیتاب ہو کر کہا۔آہ! مجھ سے اپنے باپ کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا صبر کرو آج کے بعد تمہارے باپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔۵۱۲؎ یعنی میری تکالیف اس دنیا کی زندگی تک محدود ہیں۔آج میں اپنے ربّ کے پاس چلا جائوں گا جس کے بعد میرے لئے تکلیف کی کوئی گھڑی نہیں آئے گی۔اِسی سلسلہ میں یہ واقعہ بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ آپ ہمیشہ وبائی بیماریوں میں ایک شہر سے