دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 397

صرف اِس کو اس کے اپنے اقرار کے مطابق سزا دو۔لیکن اگر وہ عورت بھی اقرار کرے تو پھر اُسے بھی سزا دو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جن امورکے متعلق قرآنی تعلیم نازل نہ ہو چکی ہوتی تھی اُن میں آپ تورات کی تعلیم پر عمل کر لیتے تھے۔تورات کے حکم کے مطابق زانی کے لئے سنگساری کا حکم ہے۔چنانچہ آپ نے بھی اُس شخص کے سنگسار کئے جانے کا حکم دیا۔جب لوگ اُس پر پتھر پھینکنے لگے تو اُس نے بھاگنا چاہا، لیکن لوگوں نے دَوڑ کر اُس کا تعاقب کیا اور تورات کی تعلیم کے مطابق اُسے قتل کر دیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس کا علم ہوا تو آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔آپ نے فرمایا اُس کو سزا اُس کے اقرار کے مطابق دی گئی۔جب وہ بھاگا تھا تو اُس نے اپنا اقرار واپس لے لیا تھا اس لئے تمہارا کوئی حق نہ تھا کہ اُس کے بعد اُس کو سنگسار کرتے اُس کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔۵۰۸؎ آپ ہمیشہ حکم دیتے تھے کہ شریعت کا نفاذ ظاہر پر ہونا چاہئے۔ایک دفعہ ایک جنگ پر کچھ صحابہؓ گئے ہوئے تھے راستہ میں ایک مشرک اُنہیں ایسا ملا جو اِدھر اُدھر جنگل میں چھپا پھرتا تھا اور جب کبھی اُسے کوئی اکیلا مسلمان مل جاتا تو اُس پر حملہ کر کے وہ اُسے مار ڈالتا۔اُسامہ بن زیدؓ نے اس کا تعاقب کیا اور ایک موقع پر جا کر اُسے پکڑ لیا اور اسے مارنے کے لئے تلوار اُٹھائی۔جب اُس نے دیکھا کہ اب میں قابو آگیا ہوں تو اُس نے کہا لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ جس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں مگر اُسامہؓ نے اُس کے اِس قول کی پرواہ نہ کی اور اُسے مار ڈالا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس لڑائی کی خبر دینے کے لئے ایک شخص مدینہ پہنچا تو اُس نے لڑائی کے سب احوال بیان کرتے کرتے یہ واقعہ بھی بیان کیا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسامہؓ کو بُلوایا اور اُن سے پوچھا کہ کیا تم نے اُس آدمی کو مار دیا تھا؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا قیامت کے دن کیا کرو گے جب لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ تمہارے خلاف گواہی دے گا۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال کیا جائے گا کہ جب اُس شخص نے لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کہا تھا تو پھر تم نے کیوں مارا؟ گو وہ قاتل تھا مگر توبہ کر چکا تھا۔حضرت اُسامہؓ نے کئی دفعہ جواب میں کہا کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہ! وہ تو ڈر کے مارے ایمان ظاہر کر رہا تھا۔اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اُس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے؟ اور پھر بار بار یہی