دیباچہ تفسیر القرآن — Page 394
صلی اللہ علیہ وسلم کی بے انتہاء خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔میں نے اُن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ محبت دیکھ کر اپنے دل سے عہد کیا تھا کہ جب کبھی مجھے کسی انصاری کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملے گایا اس کے ساتھ رہنے کا موقع ملے گا تو میں اُس کی خدمت کروں گا اس لئے آپ مجھے نہ روکیں میں اپنی قسم پوری کر رہا ہوں۔۵۰۱؎ اس واقعہ سے بِالوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کی خدمت کرنے والا بھی انسان کا محبوب ہو جاتا ہے پس جن لوگوں کے دلوں میں اپنے ماں باپ کا سچا ادب اور احترام ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ کے علاوہ اُن کے رشتہ داروں اور دوستوں کا بھی ادب کرتے ہیں۔ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اقارب کی خدمت کا ذکر تھا تو آپ نے فرمایا بہترین نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے باپ کی دوستیوں کا بھی خیال رکھے۔یہ بات آپ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کہی تھی اور اس پر اُنہوں نے ایسا عمل کیا کہ ایک دفعہ وہ حج کے لئے جار ہے تھے کہ رستہ میں ایک شخص اُن کو نظر آیا۔آپ نے اپنی سواری کا گدھا اُس کو دے دیا اور اپنے سر کا خوبصورت عمامہ بھی اُس کوعطا کر دیا۔اُن کے ساتھیوں نے اُنہیں کہا کہ آپ نے یہ کیا کام کیا ہے؟ یہ تو اعرابی لوگ ہیں بہت تھوڑی سی چیز اِن کو دے دی جائے تو خوش ہوجاتے ہیں۔عبداللہ بن عمرؓ نے کہا۔اِس شخص کا باپ حضرت عمرؓ کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے نیکی کا اعلیٰ درجے کا مظاہرہ یہ ہے کہ انسان اپنے باپ کے دوستوں کا بھی خیال رکھے۔۵۰۲؎ نیک صحبت آپ ہمیشہ اپنے اِردگرد نیک لوگوں کے رہنے کو پسند کرتے تھے اور اگر کسی میں کمزوری ہوتی تھی تو اُسے عمدگی کے ساتھ اور پردہ پوشی کے ساتھ نصیحت فرماتے تھے۔حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے، نیک دوست اور نیک مجلسی اور بد دوست اور بد مجلسی کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص مشک لئے پھر رہا ہو، مشک اُٹھانے والا اُس کو کھائے گا تب بھی فائدہ اُٹھائے گا اور رکھ چھوڑے گا تب بھی خوشبو حاصل کرے گا۔اور جس کے ہم مجلس بد ہوں اُن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بھٹی کی آگ میں پھونکیں مارتا ہے۔وہ اتنی ہی اُمید رکھ سکتا ہے کہ کوئی چنگاری اُڑ کر اُس کے کپڑوں کو