دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 371

قوم آپ کی فرمانبرداری کرنے کے لئے تیارتھی اور صرف اتنی شرط کرتی تھی کہ اس کے سردار کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیں۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ذاتی بڑائی کا کوئی بھی خیال ہوتا تو ایسی حالت میںکہ آپ کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی آپ کے لئے کچھ بھی مشکل نہ تھا کہ آپ عرب کی سب سے بڑی قوم کے سب سے بڑے سردار کو اپنی جانشینی کی امید دلاتے اور سارے عرب کے اتحاد کا راستہ کھول دیتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی اپنا نہیں سمجھتے تھے وہ اسلامی امارت کو اپنی ملکیت کب قرار دے سکتے تھے۔آپ کے نزدیک اسلامی امارت خدا کی امانت تھی اور وہ امانت جوں کی توں خدا تعالیٰ ہی کے سپرد ہونی چاہئے تھی۔پھر وہ جس کو چاہے دوبارہ سونپ دے۔پس آپ نے یہ تجویز حقارت سے ٹھکرا دی اور فرمایا بادشاہت تو الگ رہی خدا کے حکم کے بغیر میں کھجور کی ایک شاخ بھی تم کو دینے کیلئے تیار نہیں۔جب بھی اللہ تعالیٰ کا آپ ذکر فرماتے آپ کی طبیعت میں جوش پیدا ہو جاتا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے جسم کے اندر کی طرف سے بھی اور باہر کی طرف سے بھی کُلّی طور پر خدا تعالیٰ کی محبت نے قابو پا لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت میں آپ کو سادگی اس قدر پسند تھی کہ مسجد میں جس پر کوئی فرش نہیں تھا جس پر کوئی کپڑا نہیں تھا آپ نماز پڑھتے اور دوسروں کو پڑھواتے۔کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ بارش کی وجہ سے چھت ٹپک پڑتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم گارے اور پانی سے لت پت ہو جاتا مگر آپ برابر عبادت میں مشغول رہتے اور آپ کے دل میں ذرا بھی احساس پیدا نہ ہوتا کہ اپنے جسم اور کپڑوں کی حفاظت کی خاطر آپ اُس وقت کی نماز ملتوی کر دیں یا کسی دوسری جگہ پر جا کر نماز پڑھ لیں۔۴۴۱؎ اپنے صحابہ کی عبادتوں کا بھی آپ خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے متعلق جو نہایت ہی نیک او رپاکیزہ خصائل کے آدمی تھے آپ نے فرمایا عبداللہ بن عمرؓ کیسا اچھا آدمی ہوتا اگر تہجد بھی باقاعدہ پڑھتا۴۴۲؎ جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے اُس دن سے تہجد کی نماز باقاعدہ شروع کر دی۔اسی طرح لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ رات اپنے داماد حضرت علیؓ اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ