دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 370

کانوں میں بھی اپنا نور بھر دے اور میرے دائیں بھی تیرا نور ہو اور میرے بائیں بھی تیرا نور ہو اور میرے اُوپر بھی تیرا نور ہو اور میرے نیچے بھی تیرا نور ہو اور میرے آگے بھی تیرا نور ہو اور میرے پیچھے بھی تیرا نور ہو اور اے میرے ربّ! میرے سارے وجود کو نور ہی نور بنا دے۔ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ کی وفات کے قریب مسیلمہ کذاب آیا اور اس نے کہا اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے حاکم مقرر کر دیں تو میں ان کا متبع ہوجائوں گا۔اُس وقت اُس کے ساتھ ایک بہت بڑی جمعیت تھی اور جس قوم سے وہ تعلق رکھتا تھا وہ قوم سارے عرب کی قوموں سے تعداد میں زیادہ تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مدینہ میں آنے کی خبر ملی تو آپ اُس کی طرف گئے۔ثابت بن قیس بن شماس آپ کے ساتھ تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میںکھجور کی ایک شاخ تھی۔آپ اُس قافلہ تک آئے اور مسیلمہ کذاب کے سامنے کھڑے ہو گئے۔اتنے میں اَور صحابی بھی جمع ہو گئے اور آپ کے اِردگرد کھڑے ہو گئے۔آپ نے مسیلمہ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔تم یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ مقرر کر دیں تو میں اس کی اتباع کرنے کے لئے تیار ہوں، لیکن میں تو خدا کے حکم کے خلاف یہ کھجور کی شاخ بھی تم کو دینے کے لئے تیار نہیں۔تمہارا وہی انجام ہوگا جو خدا نے تمہارے لیے مقرر کیا ہے۔اگر تم پیٹھ پھیر کر چلے جائو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے پائوں کاٹ دے گا اورمیں تو دیکھ رہا ہوں کہ خد انے جو کچھ مجھے دکھایا تھا وہی تمہارے ساتھ ہونے والا ہے۔پھر فرمایا میں جاتا ہوں جو باتیں کرنی ہیں میری طرف سے ثابت بن قیس بن شماس کے ساتھ کرو۔یہ کہہ کر آپ واپس تشریف لے آئے۔حضرت ابوہریرہؓ بھی آپ کے ساتھ تھے۔راستہ میں کسی نے آپ سے پوچھا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! آپ نے یہ کیا فرمایا ہے کہ جو مجھے خدا نے دکھایا تھا میں تجھے ویسا ہی پاتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے ہاتھ میں دو کڑے ہیں۔میں نے اُن کڑوں کو دیکھ کر ناپسند کیا۔اُس وقت مجھے خواب میں ہی وحی نازل ہوئی کہ میں ان پر پھونکوں۔جب میں نے پھونکا تو وہ دونوںاُڑ گئے۔میں نے اِس کی یہ تعبیر کی کہ دو جھوٹے مدعی میرے بعد ظاہر ہوں گے۔۴۴۰؎ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا یہ آخری زمانہ تھا۔عرب کی سب سے بڑی اور آخری