دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 355

جو کوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اُس کو مَیں بتائے دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوچکے ہیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جس وقت ابوبکرؓ نے والی آیت پڑھنی شروع کی تو میرے ہوش درست ہونے شروع ہوئے۔اِس آیت کے ختم کرنے تک میری روحانی آنکھیں کھل گئیں اور میں نے سمجھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میں فوت ہوگئے ہیں تب میرے گھٹنے کانپ گئے اور میں نڈھال ہو کر زمین پر گر گیا۔۳۹۱؎ وہ شخص جو تلوار سے ابوبکرؓ کو مارنا چاہتا تھا وہ اب ابوبکرؓ کے صداقت بھرے لفظوں کے ساتھ خود قتل ہوگیا۔صحابہؓ کہتے ہیں کہ اُس وقت ہمیں یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صدمہ میں یہ آیت ہمیں بھول ہی گئی تھی۔اُس وقت حسان بن ثابتؓ نے جو مدینہ کے ایک بہت بڑے شاعر تھے یہ شعر کہا۔کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗ مَنْ شَائَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ۳۹۲؎ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو تو میری آنکھوں کی پُتلی تھا آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہوگئیں۔اب تیرے مرنے کے بعد کوئی مرے، میرا باپ مرے، میرا بھائی مرے، میرا بیٹامرے، میری بیوی مرے مجھے اِن میں سے کسی کی موت کی پرواہ نہیں۔میں تو تیری ہی موت سے ڈرا کرتا تھا۔یہ شعر ہر مسلمان کے دل کی آواز تھا۔اس کے بعد کئی دنوں تک مدینہ کی گلیوں میں مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مسلمان بچے یہی شعر پڑھتے پھرتے تھے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تو تو ہماری آنکھوں کی پتلی تھا تیرے مرنے سے ہم تو اندھے ہوگئے۔اب ہمارا کوئی عزیز اور قریبی رشتہ دار مرے ہمیں پرواہ نہیں۔ہمیں تو تیری ہی موت کا خوف تھا۔