دیباچہ تفسیر القرآن — Page 354
بندھی اور ہم نے کہا عمرؓ سچ کہتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے ضرور اس بارہ میں لوگوں کو غلطی لگی ہے اور عمرؓ کے قول کے ساتھ ہم نے اپنے دلوں کو تسلی دینی شروع کی۔اتنے میں بعض لوگوں نے دَوڑ کر حضرت ابوبکرؓ کو صورتِ حالات سے اطلاع دی۔اُن سے اطلاع پا کر حضرت ابوبکرؓ بھی مسجد میں پہنچ گئے مگر کسی سے بات نہ کی سیدھے گھر میں چلے گئے اور جا کر حضرت عائشہؓ سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے ہیں؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا ہاں۔آپ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے آپ کے منہ پر سے کپڑا اُٹھایا آپ کے ماتھے کو بوسہ دیا اور محبت کے چمکتے ہوئے آنسو آپ کی آنکھوں سے گرے اور آپ نے فرمایا خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔۳۸۹؎ یعنی یہ نہیں ہوگا کہ ایک تو آپ جسمانی طور پر فوت ہو جائیں اور دوسری موت آپ پر یہ وارد ہو کہ آپ کی جماعت غلط عقائد اور غلط خیالوں میں مبتلا ہو جائے۔یہ کہہ کر آپ باہر آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ منبر کی طرف بڑھے۔جب آپ منبر پر کھڑے ہوئے تو حضرت عمرؓ بھی تلوار کھینچ کر آپ کے پاس کھڑے ہوگئے اِس نیت سے کہ اگر ابوبکرؓ نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺفوت ہوگئے ہیں تو میں اُن کو قتل کر دوں گا۔جب آپ بولنے لگے تو حضرت عمرؓ نے آپ کا کپڑا کھینچا اور آپ کو خاموش کرنا چاہا مگر آپ نے کپڑے کو جھٹک کر اُن کے ہاتھ سے چھڑا لیا اور پھر قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی ۳۹۰؎ یعنی اے لوگو! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول تھے اُن سے پہلے اور بہت سے رسول گزرے ہیں اور سب کے سب فوت ہوچکے ہیں کیا اگر وہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم لوگ اپنے دین کو چھوڑ کر پھر جاؤ گے؟ دین خدا کا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو نہیں۔یہ آیت اُحد کے وقت نازل ہوئی تھی جب کہ بعض لوگ یہ سن کر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں دل چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے۔اِس آیت کے پڑھنے کے بعد آپ نے فرمایا اے لوگو! مَنْ کَانَ یَعْبُدُاللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حیٌّ لَایَمُوْتُ جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اُسے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اُس پر کبھی موت وارد نہیں ہوسکتی۔وَ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَاور