دیباچہ تفسیر القرآن — Page 329
بوسفیان نے کہا زبیرؓ! یہ باتیں جانے بھی دو۔آج ہم کو اچھی طرح نظر آ رہا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے سوا کوئی اور خدا بھی ہوتا تو آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس طرح کبھی نہ ہوتا۔۳۶۲؎ پھر آپ نے خانہ کعبہ کے اندر جو تصویریں حضرت ابراہیم ؑ وغیرہ کی بنی ہوئی تھیں ان کے مٹانے کا حکم دیا اور خانہ کعبہ میں خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کے شکریہ میں دو رکعت نماز پڑھی پھر باہر تشریف لائے اور باہر آکربھی دو رکعت نماز پڑھی۔خانہ کعبہ کی تصویروں کو مٹانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو مقرر فرمایا تھا؟ انہوں نے اس خیال سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو ہم بھی نبی مانتے ہیں حضرت ابراہیم ؑ کی تصویر کو نہ مٹایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اُس تصویر کو قائم دیکھا تو فرمایا عمر! تم نے یہ کیا کیا؟ کیا خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ ۳۶۳؎ یعنی ابراہیم نہ یہودی تھانہ نصرانی بلکہ وہ خدا تعالیٰ کا کامل فرمانبردار اور خدا تعالیٰ کی ساری صداقتوں کو ماننے والا اور خدا کا موحد بندہ تھا۔چنانچہ آپ کے حکم سے یہ تصویر بھی مٹا دی گئی۔خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھ کر مسلمانوں کے دل اُس دن ایمان سے اتنے پُر ہو رہے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان پر ان کا یقین اِس طرح بڑھ رہا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زمزم کے چشمہ سے ( جو اسمٰعیل بن ابراہیم کے لئے خدا تعالیٰ نے بطور نشان پھاڑا تھا) پانی پینے کے لئے منگوایا اور اُس میں سے کچھ پانی پی کے باقی پانی سے آپ نے وضو فرمایا تو آپ کے جسم میں سے کوئی قطرہ زمین پر نہیں گر سکا۔مسلمان فوراً اُس کو اُچک لے جاتے اور تبرک کے طور پر اپنے جسم پر مل لیتے تھے اور مشرک کہہ رہے تھے ہم نے کوئی بادشاہ دنیامیں ایسا نہیں دیکھا جس کے ساتھ اس کے لوگوں کو اتنی محبت ہو۔۳۶۴؎ جب آپ ان باتوں سے فارغ ہوئے اور مکہ والے آپ کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو آپ نے فرمایا اے مکہ کے لوگو! تم نے دیکھ لیا کہ خد اتعالیٰ کے نشانات کس طرح لفظ بلفظ پورے ہوئے ہیں اب بتائو کہ تمہارے ان ظلموں اور ان شرارتوں کا کیا بدلہ دیا جائے جو تم نے