دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 328

جاتے تھے۔آپ سیدھے خانہ کعبہ کی طرف آئے اور اُونٹنی پر چڑھے چڑھے سات دفعہ خانہ کعبہ کا طواف کیا۔اُس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔آپ خانہ کعبہ کے گرد جو حضرت ابراہیم ؑ اور اُن کے بیٹے اسمٰعیل ؑ نے خدائے واحد کی پرستش کے لئے بنایا تھا جسے بعد کو اُن کی گمراہ اولاد نے بتوں کا مخزن بنا کر رکھ دیا تھا گھومے اور وہ تین سَو ساٹھ بت جو اس جگہ پر رکھے ہوئے تھے اُن میں سے ایک ایک بت پر آپ چھڑی مارتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے ۔۳۶۰؎ یہ وہ آیت ہے جو ہجرت سے پہلے سورۂ بنی اسرائیل میں آپ پر نازل ہوئی تھی اور جس میں ہجرت اور پھر فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی۔یوروپین مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ہجرت سے پہلے کی سورۃ ہے اس سورۃ میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ۳۶۱؎ یعنی تو کہہ دے میرے ربّ! مجھے اس شہر یعنی مکہ میں نیک طور پر داخل کیجیؤیعنی ہجرت کے بعد فتح اور غلبہ دے کر۔اور اِس شہر سے خیریت سے ہی نکالیو یعنی ہجرت کے وقت۔اور خود اپنے پاس سے مجھے غلبہ اور مدد کے سامان بھجوائیو۔اور یہ بھی کہو کہ حق آگیا ہے اور باطل یعنی شرک شکست کھا کے بھاگ گیا ہے اور باطل یعنی شرک کے لئے شکست کھا کر بھاگنا تو ہمیشہ کے لئے مقدر تھا۔اس پیشگوئی کے لفظاً لفظاً پورا ہونے اور حضرت ابوبکرؓ کے اِس کو تلاوت کرتے وقت مسلمانوں اور کفار کے دلوں میں جو جذبات پید ا ہوئے ہوں گے وہ لفظوں میں ادا نہیں ہو سکتے۔غرض اُس دن ابراہیم ؑ کا مقام پھر خدائے واحد کی عبادت کے لئے مخصوص کر دیا گیا اور بت ہمیشہ کے لئے توڑے گئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبل نامی بت کے اُوپر اپنی چھڑی ماری اور وہ اپنے مقام سے گر کر ٹوٹ گیا تو حضرت زبیرؓ نے ابوسفیان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا ابوسفیان! یاد ہے اُحد کے دن جب مسلمان زخموں سے چور ایک طرف کھڑے ہوئے تھے تم نے اپنے غرور میں یہ اعلان کیا تھا اُعْلُ ھُبَلْ۔اُعْلَ ھُبَل۔ھُبَلْ کی شان بلند ہو، ھُبَل کی شان بلند ہو۔اور یہ کہ ھُبَل نے ہی تم کو اُحد کے دن مسلمانوںپر فتح دی تھی۔آج دیکھتے ہو وہ سامنے ھُبَلْ کے ٹکڑے پڑے ہیں۔