دیباچہ تفسیر القرآن — Page 309
دوسرا قابلِ ذکر واقعہ یہ ہے کہ خیبر کے محاصرہ کے دنوں میں ایک یہودی رئیس کا گلہ بان جو اس کی بکریاں چرایا کرتا تھا مسلمان ہو گیا۔مسلمان ہونے کے بعد اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں اب ان لوگوں میں تو جا نہیں سکتا اور یہ بکریاں اُس یہودی کی میرے پاس امانت ہیں اب میں ان کو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا بکریوں کا منہ قلعہ کی طرف کر دو اورا ن کو دھکیل دو۔خدا تعالیٰ ان کو ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔چنانچہ اس نے اسی طرح کیا اور بکریاں قلعہ کے پاس چلی گئیں جہاں سے قلعہ والوں نے ان کو اندر داخل کرلیا۔۳۴۱؎ اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس شدت سے امانت کے اصول پر عمل کرتے تھے اور کرواتے تھے۔لڑنے والوں کے اموال آج بھی جنگ میں حلال سمجھتے جاتے ہیں کیا ایسا واقعہ آجکل کے زمانہ میں جو مہذب زمانہ کہلاتا ہے کبھی ہوا ہے کہ دشمن فوج کے جانور ہاتھ آگئے ہوں تو ان کو دشمن فوج کی طرف واپس کر دیا گیا ہو؟ باوجود اس کے کہ وہ بکریاں ایک لڑنے والے دشمن کا مال تھیں اور باوجود اس کے کہ ان کے قلعے میں واپس چلے جانے کے نتیجہ میں دشمن کے لئے مہینوں کی غذا کا سامان ہو جاتا تھا جس کے بھروسہ پر وہ ایک لمبے عرصہ تک محاصرہ کو جاری رکھ سکتا تھا۔آپ نے ان بکریوں کو قلعہ میں واپس کروا دیا تا ایسا نہ ہو کہ اس مسلمان کی امانت میں فرق آئے جس کے سپرد بکریاں تھیں۔تیسرا واقعہ یہ ہوا کہ ایک یہودی عورت نے صحابہؓ سے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جانور کے کس حصہ کا گوشت زیادہ پسند ہے؟ صحابہؓ نے بتایا کہ آپ کو دست کا گوشت زیادہ پسند ہے۔اس پر اس نے بکرا ذبح کیا اور پتھروں پر اس کے کباب بنائے اور پھر اس گوشت میں زہر ملا دیا۔خصوصاً بازوئوں میں جس کے متعلق اسے بتایا گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں کا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں۔سورج ڈوبنے کے بعدجب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کی نماز پڑھ کر اپنے ڈیرے کی طرف واپس آرہے تھے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے خیمے کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے۔آپ نے اس سے پوچھا۔بی بی تمہارا کیا کام ہے؟ اس نے کہا اے ابوالقاسم !میں آپ کے لئے ایک تحفہ لائی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ساتھی صحابیؓ سے فرمایا جو چیز یہ دیتی