دیباچہ تفسیر القرآن — Page 308
گیا۳۳۹؎ اور اس بات پر صلح ہوئی کہ تمام یہودی اور ان کے بیوی بچے خیبر چھوڑ کر مدینہ سے دور چلے جائیں گے اور ان کے تمام اموال مسلمانوں کے حق میں ضبط ہوں گے اور یہ کہ جو شخص اس معاملہ میں جھوٹ سے کام لے گا اورکوئی مال یا جنس چھپا کر رکھے گا وہ اس معاہدہ کی حفاظت میں نہیں آئے گا اور غداری کی سزا کا مستحق ہو گا۔تین عجیب واقعات اس جنگ میں تین عجیب واقعات پیش آئے کہ اُن میں سے ایک تو خدا تعالیٰ کے ایک نشان پر دلالت کرتا ہے اور دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ پر۔نشان تو یہ ہے کہ اس جنگ کے بعد جب خیبر کے رئیس کنانہ کی بیوی صفیہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں تو آپ نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر کچھ لمبے لمبے نشان ہیں۔آپ نے فرمایا صفیہؓ! تمہارے یہ نشان کیسے ہیں؟ اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ایک دن میں نے ایک خواب دیکھی کہ چاند گر کر میری جھولی میں آ پڑ اہے۔میں نے دوسرے دن یہ خواب اپنے خاوند کوسنائی میرے خاوند نے کہا یہ عجیب خواب ہے تمہارا باپ بڑا عالم آدمی ہے اُس کو چل کر یہ خواب سنانی چاہئے۔چنانچہ میں نے اپنے باپ سے اس کا ذکر کیا تو خواب سنتے ہی اُس نے زور سے میرے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا نالائق! کیا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے! ۳۴۰؎ یہ اس نے اس لئے کہا کہ عرب کا قومی نشان چاند تھا۔اگر کوئی خواب میں یہ دیکھتا کہ چاند اس کی جھولی میں آپڑا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کے بادشاہ کے ساتھ اس کا تعلق ہو گیا ہے اور اگر کوئی خواب دیکھتا کہ چاند پھٹ گیا ہے یا گر گیا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کی حکومت میں تفرقہ پڑ گیا ہے یا وہ تباہ ہو گئی ہے۔یہ خواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا ایک نشان ہے اور اس بات کا بھی نشان ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب کی خبریں دیتا رہتا ہے۔گو مؤمنوں کو زیادہ اور غیر مؤمنوں کو کم۔حضرت صفیہؓ ابھی یہودی ہی تھیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے یہ مصفی غیب عطا فرمایا جس کے مطابق ان کا خاوند معاہدہ کی خلاف ورزی کی سزا میں مارا گیا اور وہ باوجود اس کے کہ ایک اور صحابی کی قید میں گئی تھیں بعض لوگوں کے اصرار پر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور اس طرح وہ غیب پورا ہوا جو خدا تعالیٰ نے اُنہیں بتایا تھا۔