دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 299

خاندان کی حکومت قسطنطنیہ میں قائم رہی۔روم کی حکومت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط بہت دیر تک محفوظ رہا۔چنانچہ بادشاہ منصور قلادون کے بعض سفیر ایک دفعہ بادشاہِ روم کے پاس گئے تو بادشاہ نے ان کو دکھانے کے لئے ایک صندوقچہ منگوایا اور کہا کہ میرے ایک داداکے نام تمہارے رسول کا ایک خط آیا تھا جو آج تک ہمارے پاس محفوظ ہے۔فارس کے بادشاہ کے نام خط رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط فارس کے بادشاہ کی طرف لکھا تھا وہ عبداللہ بن حذافہ کی معرفت بجھوایا گیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے:۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مِنْ مُّحَمّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ اِلٰی کِسْریٰ عَظِیْمِ الْفَارِس۔سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ اَلْھُدٰی۔وَاٰمَنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَشَھِدَ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہٗ۔وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ وَ اَدْعُوْکَ بِدِعَایَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَاِنِّیْ اَنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِلَی النَّاسِ کَافَّۃً، لِاُ نْذِرَمَنْ کَانَ حَیًّا وَیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکَافِرِیْنَ اَسْلِمْ تَسْلَمْ فَاِنْ اَبَیْتَ فَعَلَیْکَ اِثْمُ الْمَجُوْسِ۔۳۳۳؎ یعنی اللہ کا نام لے کر جو بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے یہ خط محمد رسول اللہ نے کسریٰ فارس کے سردار کی طرف لکھا ہے۔جو شخص کامل ہدایت کی اتباع کرے اور اللہ پر اور اُس کے رسول پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اُس پر خد اکی سلامتی ہو۔اے بادشاہ! میں تجھے خدا کے حکم کے ماتحت اسلام کی طرف بُلاتا ہوں کیونکہ میں تمام انسانوں کی طرف خد اکی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تاکہ ہرزندہ شخص کو میں ہوشیار کردوں اور کافروں پر حجت تمام کردوں۔تو اسلام قبول کر تا تو ہر ایک فتنہ سے محفوظ رہے اگر تو اس دعوت سے انکار کرے گا تو سب مجوس کا گناہ تیرے ہی سر پر ہو گا۔عبداللہ بن حذافہؓ کہتے ہیں کہ جب میںکسریٰ کے دربار میں پہنچا تو میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی جو دی گئی۔جب میں نے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط کسریٰ کے ہاتھ میں دیا تو اُس نے ترجمان کو پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔جب ترجمان نے اس کا ترجمہ پڑھ کر