دیباچہ تفسیر القرآن — Page 298
یعنی یہ خط محمدا للہ کے بندے اور اُس کے رسول کی طر ف سے رُوم کے بادشاہ ہرقل کی طرف لکھا جاتا ہے۔جو شخص بھی خدا کی ہدایت کے پیچھے چلے اُس پر خد اکی سلامتیاں نازل ہوں۔اس کے بعد اے بادشاہ! میں تجھے اسلام کی دعوت پیش کرتا ہوں (یعنی خدائے واحد اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی) اے بادشاہ! تو مسلمان ہو جا۔تو خدا تجھے تمام فتنوں سے بچا لے گا۔اور تجھے دُہرا اجر دے گا۔( یعنی عیسٰی ؑ پر ایمان لانے کا بھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا بھی) لیکن اگر تو نے اس بات کے ماننے سے انکار کر دیا تو صرف تیری ہی جان کا گناہ تجھ پر نہیں ہو گا بلکہ تیری رعایا کے ایمان نہ لانے کا گناہ بھی تجھ پر ہو گا۔(آخر میں قرآن شریف کی آیت درج تھی جس کے معنی یہ ہیں کہ) اے اہل کتاب! آئو اس بات پر تو اکٹھے ہو جائیں جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ہم خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اُس کا شریک نہ بنائیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی بندے کو بھی اتنی عزت نہ دیں کہ وہ خدائی صفات سے متصف کیا جانے لگے۔اگر اہل کتاب اِس دعوتِ اتحاد کو قبول نہ کریں تو اے محمد رسول اللہ اور ان کے ساتھیو! ان سے کہہ دو کہ ہم تو خدا تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔بعض تاریخوںمیں لکھا ہے کہ جب یہ خط بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو دربایوں میں سے بعض نے کہا کہ اس خط کو پھاڑ کر پھینک دینا چاہئے کیونکہ اس میں بادشاہ کی ہتک کی گئی ہے اور خط کے اوپر بادشاہ روم نہیں لکھا گیا بلکہ صاحب الروم یعنی روم کا والی لکھا ہے مگر بادشاہ نے کہا یہ عقل کے خلاف ہے کہ خط پڑھنے سے پہلے پھاڑ دیا جائے اور یہ جو اُس نے مجھے روم کا والی لکھا ہے یہ درست ہے آخر مالک تو خدا ہی ہے میں والی ہی ہوں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا روم کے بادشاہ نے جو طریق اختیار کیا ہے اس کی وجہ سے اس کی حکومت بچا لی جائے گی اور اس کی اولاد دیر تک حکومت کرتی رہے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔بعد کی جنگوں میں گو بہت سا ملک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسری پیشگوئی کے ماتحت روم کے بادشاہ کے ہاتھ سے چھینا گیا مگر اس واقعہ کے چھ سَو سال بعد تک اس کے