دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 285

عدل کی تعلیم کہلا سکتی ہے نہ وہ اِس زمانہ میں قابل عمل ہے اور نہ مسیحؑ کی تعلیم اِس زمانہ میں قابلِ عمل کہلا سکتی ہے اور نہ کبھی عیسائی دنیا نے اِس پر عمل کیا ہے۔اسلام ہی کی تعلیم ہے جو قابل عمل ہے اور جس پر عمل کر کے دنیا میں امن قائم رکھا جا سکتا ہے۔بیشک اس زمانہ میں مسٹر گاندھی نے دنیا کے سامنے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ جنگ کے وقت بھی جنگ نہیں کرنی چاہئے۔لیکن جس تعلیم کو مسٹر گاندھی پیش کر رہے ہیں اُس پر دنیا میں کبھی عمل نہیں ہوا کہ ہم اُس کی بُرائی اور خوبی کا اندازہ کر سکیں۔مسٹر گاندھی کی زندگی میں ہی کانگرس کو حکومت مل گئی ہے اورکانگرسی حکومت نے فوجوں کو ہٹایا نہیں بلکہ وہ یہ تجویزیں کر رہی ہے کہ آئی۔این۔اے کے وہ افسر جو برطانوی گورنمنٹ نے ہٹا دئیے تھے اُن کو دوبارہ فوج میں ملازم رکھا جائے۔بلکہ کانگرسی حکومت کے ہندوستان میں قائم ہونے کے سات دن کے اندر وزیرستان کے علاقہ میں نہتے آدمیوں پر ہوائی جہازوں کے ذریعہ سے بم گرائے گئے ہیں۔خود گاندھی جی تشدد کرنے والوں کی تائید اور اُن کے چھوڑ دینے کے حق میں گورنمنٹ پر ہمیشہ زور دیتے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ گاندھی جی نہ اُن کے پیرو اِس تعلیم پر عمل کر سکتے ہیں اور نہ کوئی ایسی معقول صورت دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ قوموں اور ملکوں کی جنگ میں اس تعلیم پر کس طرح کامیاب طور پر عمل کیا جا سکتا ہے۔بلکہ منہ سے اِس تعلیم کا وعظ کرتے ہوئے اُس کے خلاف عمل کرنا بتاتا ہے کہ اِس تعلیم پر عمل نہیں کیا سکتا۔پس اِس وقت تک دنیا کا تجربہ ہے اور عقل جس حد تک انسان کی راہنمائی کرتی ہے ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی طریقہ صحیح تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔کفار کی طرف سے جنگ خندق کے بعد مسلمانوں پر حملے احزاب سے واپس لوٹنے کے بعد گوکفار کی ہمتیں ٹوٹ چکی تھیں اور اُن کے حوصلے پست ہو گئے تھے، لیکن اُن کا یہ احساس باقی تھا کہ ہم اکثریت میں ہیں اور مسلمان تھوڑے ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ جہاں جہاں بھی ہو گا ہم مسلمانوں کو