دیباچہ تفسیر القرآن — Page 284
۵۔بڈھے کو نہیں مارنا چاہئے، بچے کو نہیں مارنا چاہئے، عورت کو نہیں مارنا چاہئے اور ہمیشہ صلح اور احسان کو مدنظر رکھنا چاہئے۔۳۱۷؎ ۶۔جب لڑائی کے لئے مسلمان جائیں تو اپنے دشمنوں کے ملک میں ڈر اور خوف پید انہ کریں اور عوام الناس پر سختی نہ کریں۔۳۱۸؎ ۷۔جب لڑائی کے لئے نکلیں تو ایسی جگہ پر پڑائو نہ ڈالیں کہ لوگوں کے لئے تکلیف کا موجب ہو اور کوچ کے وقت ایسی طرز پر نہ چلیں کہ لوگوں کیلئے رستہ چلنا مشکل ہو جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا سختی سے حکم دیا ہے کہ فرمایا جو شخص اِن احکام کے خلاف کرے گا اُس کی لڑائی اُس کے نفس کے لئے ہو گی خدا کے لئے نہیںہو گی۔۳۱۹؎ ۸۔لڑائی میں دشمن کے منہ پر زخم نہ لگائیں۔۹۔لڑائی کے وقت کوشش کرنی چاہئے کہ دشمن کو کم سے کم نقصان پہنچے۔۱۰۔جو قیدی پکڑے جائیں اُن میں سے جو قریبی رشتہ دار ہوں اُن کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جائے۔۳۲۰؎ ۱۱۔قیدیوں کے آرا م کا اپنے آرام سے زیادہ خیال رکھا جائے۔۳۲۱؎ ۱۲۔غیر ملکی سفیروں کا ادب اور احترام کیا جائے۔وہ غلطی بھی کریں تو اُن سے چشم پوشی کی جائے۔۳۲۲؎ ۱۳۔اگر کوئی شخص جنگی قیدی کے ساتھ سختی کر بیٹھے تو اس قیدی کو بِلا معاوضہ آزاد کر دیا جائے۔۱۴۔جس شخص کے پاس کوئی جنگی قیدی رکھا جائے وہ اُسے وہی کھلائے جو خود کھائے اور اُسے وہی پہنائے جو خود پہنے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہی احکام کی روشنی میں مزید یہ حکم جاری فرمایا کہ عمارتوں کو گرائو مت اور پھلدار درختوں کو کاٹو مت۔۳۲۳؎ اِن احکام سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اسلام نے جنگ کے روکنے کے لئے کیسی تدابیر اختیار کی ہیں اورر سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس عمدگی کے ساتھ اِن تعلیمات کو جامہ پہنایا اور مسلمانوں کو اِن پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ نہ موسٰی ؑ کی تعلیم اِس زمانہ میں