دیباچہ تفسیر القرآن — Page 226
کہاں جاتے ہیں۔مگر اُس شخص نے کہا۔ا ے مکہ والو! میری نصیحت تم کو یہی ہے کہ تم اِن لوگوں سے نہ لڑو کیونکہ میں نے جتنے آدمی مسلمانوں کے دیکھے ہیں اُن کو دیکھ کر مجھ پر یہی اثر ہوا ہے کہ اُونٹوں پر آدمی سوار نہیں موتیں سوار ہیں۲۵۱؎ یعنی اُن میں سے ہر شخص مرنے کیلئے اِس میدان میں آیا ہے زندہ واپس جانے کے لئے نہیں آیا۔اور جو شخص موت کو اپنے لئے آسان کر لیتا ہے اور موت سے ملنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے اُس کا مقابلہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوا کرتی۔ایک عظیم الشان پیشگوئی کا پورا ہونا جب جنگ شروع ہونے کا وقت آیا۔رسول کریم ﷺاُس جگہ سے جہاں آپ بیٹھ کر دعا کر رہے تھے باہر تشریف لائے اور فرمایاسَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔۲۵۲؎ دشمنوں کا لشکر شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر میدان چھوڑ جائے گا۔یہ الفاظ جو آپ نے فرمائے یہ قرآن کریم کی ایک پیشگوئی تھی جو مکہ میں ہی اس جنگ کے متعلق قرآن کریم میں نازل ہوئی تھی۔مکہ میں جب مسلمان کفّار کے ظلموں کا تختۂ مشق ہو رہے تھے اور اِدھر اُدھر ہجرت کر کے جا رہے تھے خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کی یہ آیات نازل فرمائیں۲۵۳؎ یعنی اے مکہ والو! فرعون کی طرف بھی اِنذار کی باتیں آئی تھیں، لیکن اُنہوں نے ہماری تمام آیتوں کا انکار کیا پس ہم نے اُن کو اس طرح پکڑ لیا جیسے ایک طاقتور غالب ہستی پکڑا کرتی ہے۔( اے مکہ والو!) بتائو کیا تمہارے کفّار اُن (کفّار) سے اچھے ہیں یا تمہارے لئے پہلی کتابوں میں حفاظت کا کوئی وعدہ آچکا ہے؟ وہ کہتے ہیں ہم تو ایک بڑی طاقت ہیں جو دشمنوں سے ہارتی نہیں بلکہ دشمنوں سے بدلے لیا کرتی ہے ( وہ یہ باتیں کرتے رہیں) اُن کے جتھے عنقریب اکٹھے ہوں گے اور پھر اُنہیں شکست ملے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، بلکہ اُن کی تباہی کی گھڑی کا خدا تعالیٰ