دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 225

سے پیر تک مسلح ہے اور دشمن کی صفوں کے پیچھے کھڑا ہے اور جس کے آگے دو تجربہ کار جرنیل ننگی تلواریں لئے کھڑے ہیں وہی ابوجہل ہے۔وہ کہتے ہیں ابھی میری اُنگلی نیچے نہیں گری تھی کہ وہ دونوں لڑکے جس طرح عقاب چڑیا پر حملہ کرتا ہے اس طرح چیختے ہوئے کفّار کی صفوں میں گھس گئے۔اُن کا یہ حملہ ایسا اچانک اور ایسا خلافِ توقع تھا کہ کسی شخص کی تلوار اُن کے خلاف نہ اُٹھ سکی اور وہ تیر کی سی تیزی کے ساتھ ابوجہل تک جا پہنچے۔اُس کے پہرہ داروں نے اُن پر وار کئے، ایک کا وار خالی گیا اور دوسرے کے وار سے ایک نوجوان کا ہاتھ کٹ گیا۔لیکن دونوں میں سے کسی نے کوئی پرواہ نہ کی اورصرف ابوجہل کی طرف متوجہ ہوئے اور اُس پر اِس زور سے جا کر حملہ کیا کہ وہ زمین پر گر گیا اور پھر اُنہوںنے اُسے نہایت شدید زخمی کر دیا۔۲۵۰؎ مگر بوجہ تلوار چلانے کا فن نہ جاننے کے اُسے قتل نہ کر سکے۔اِس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ مظالم جو مکہ کے لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے رہے تھے وہ قریب سے دیکھنے والوں کو کتنے بھیانک نظر آتے تھے۔اب بھی اِن مظالم کو تاریخ میں پڑھ کر ایک شریف آدمی کا دل دھڑکنے لگتا ہے اوررونگٹے کھڑے ہو جا تے ہیں۔مگر مدینہ کے لوگ تو اُن لوگوں کے منہ سے ان مظالم کی داستانیں سنتے تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ مظالم ہوتے دیکھے۔ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس اور صلح جو یا نہ زندگی کو دیکھتے تھے دوسری طرف مکہ والوں کے انسانیت سوز مظالم کے واقعات سنتے تھے تو اُن کے دل اِس حسرت سے بھر جاتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی صلح جوئی اور پُرعافیت مزاج کی وجہ سے ان لوگوں کا جواب نہیں دیا کاش! وہ ہمارے سامنے آجائیں تو ہم انہیں بتائیں کہ اگر اُن کے ظلموںکا جواب نہیں دیا گیا تو اِس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان کمزور تھے بلکہ اِس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو خد اتعالیٰ کی طرف سے اُن کا جواب دینے کی اجازت نہیں تھی۔مسلمانوں کے دلوں کی کیفیت کا اندازہ اِس سے بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ابوجہل نے ایک بدوی سردار کو اِس بات کے لئے بھیجا کہ وہ اندازہ کرے کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔جب وہ واپس لوٹا تو اُس نے بتایا کہ مسلمان تین سَوا تین سَو کے قریب ہوں گے۔اِس پر ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا اب مسلمان ہم سے بچ کر