دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 185

کے لوگ اپنے آپ کو خانہ کعبہ کا متولّی سمجھتے تھے اور مکہ سے باہر چلے جانا ان کے لئے ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔وہی شخص یہ بات کہہ سکتا تھا جس کے لئے دنیا میں کوئی اور ٹھکانہ باقی نہ رہے۔پس ان لوگوں کا نکلنا ایک نہایت ہی دردناک واقعہ تھا۔پھر نکلنابھی اُن لوگوں کو چوری ہی پڑا۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مکہ والوںکو معلوم ہوگیا تو وہ ہمیں نکلنے نہیں دیں گے اور اس وجہ سے وہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی آخری ملاقات سے بھی محروم جا رہے تھے۔اُن کے دلوں کی جو حالت تھی سو تھی، اُن کے دیکھنے والے بھی ان کی تکلیف سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔چنانچہ جس وقت یہ قافلہ نکل رہا تھا حضرت عمرؓ جو اُس وقت تک کافر اور اسلام کے شدید دشمن تھے اور مسلمانوں کو تکلیف دینے والوں میں سے چوٹی کے آدمی تھے اتفاقاً اُس قافلہ کے بعض افراد کو مل گئے۔اُن میں ایک صحابیہ اُمِّ عبداللہ نامی بھی تھیں۔بندھے ہوئے سامان اور تیار سواریوں کو جب آپ نے دیکھا تو آپ سمجھ گئے کہ یہ لوگ مکہ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔آپ نے کہا اُمِّ عبداللہ یہ تو ہجرت کے سامان نظر آرہے ہیں۔اُمِّ عبداللہ کہتی ہیں میںنے جواب میں کہا ہا ں خدا کی قسم! ہم کسی اور ملک میں چلے جائیں گے کیونکہ تم نے ہم کو بہت دکھ دئیے ہیں اور ہم پر بہت ظلم کئے ہیں ہم اُس وقت تک اپنے ملک میں نہیں لوٹیں گے جب تک خد ا تعالیٰ ہمارے لئے کوئی آسانی اور آرام کی صورت نہ پیدا کر دے۔اُمِّ عبداللہ بیان کرتی ہیں کہ عمر نے جواب میں کہا اچھا خدا تمہارے ساتھ ہو اور میں نے اُن کی آواز میں رقت محسوس کی جو اِس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔پھر وہ جلدی سے منہ پھیر کر چلے گئے اور میں نے محسوس کیا کہ اِس واقعہ سے ان کی طبیعت نہایت ہی غمگین ہوگئی ہے۔۲۰۸؎ جب اُن لوگوں کے ہجرت کرنے کی مکہ والوں کو خبر ہوئی تو اُنہوں نے ان کا تعاقب کیا اور سمندر تک ان کے پیچھے گئے مگر یہ قافلہ اِن لوگوں کے سمندر تک پہنچنے سے پہلے ہی حبشہ کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔جب مکہ والوں کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک وفد بادشاہ ِحبشہ کے پاس بھیجا جائے جو اُسے مسلمانوں کے خلاف بھڑکائے اور اُسے تحریک کرے کہ وہ مسلمانوں کو مکہ والوں کے سپرد کردے تاکہ وہ اُنہیں ان کی اِس شوخی کی سزا دیں کہ رئوسائے شہر کے ظلموں کو برداشت نہ کرتے ہوئے وہ مکہ سے کیوں بھاگے تھے۔اِس وفد میں عمرو بن العاص بھی تھے