دیباچہ تفسیر القرآن — Page 184
رئوساء کے لئے زندہ رہتی تھی۔یہ بات سن کر ابو طالب بیتاب ہو گئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُلوایا اور کہا کہ اے میرے بھتیجے! میری قوم میرے پاس آئی ہے اور اس نے مجھے یہ پیغام دیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر تمہارا بھتیجا ان باتوں میں سے کسی ایک بات پر بھی راضی نہ ہوتو پھر ہماری طرف سے ہر ایک قسم کی پیشکش ہو چکی ہے اگر وہ اس پر بھی اپنے طریقہ سے باز نہیں آتا تو آپ کا کام ہے کہ اسے چھوڑ دیں اوراگر آپ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں تو پھر ہم لوگ آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دیں گے۔جب ابو طالب نے یہ بات کی تو اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اُن کے آنسوئوں کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے اور آپ نے فرمایا اے میرے چچا! میں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی قوم کو چھوڑ دیں اور میرا ساتھ دیں۔آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم کے ساتھ مل جائیں۔لیکن مجھے خدائے وحدہ لاشریک کی قسم ہے کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیںتب بھی میں خد ا تعالیٰ کی توحید کا وعظ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔میں اپنے کام میں لگا رہوں گا جب تک خد ا مجھے موت دے۔آپ اپنی مصلحت کو خود سوچ لیں۔یہ ایمان سے پُر اور یہ اخلاص سے بھر ا ہوا جواب ابو طالب کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی تھا۔اُنہوں نے سمجھ لیا کہ گو مجھے ایمان لانے کی توفیق نہیں ملی لیکن اِس ایمان کا نظارہ دیکھنے کی توفیق ملنا ہی سب دولتوں سے بڑی دولت ہے اور آپ نے کہا اے میرے بھتیجے! جا اور اپنا فرض ادا کرتا رہ۔قوم اگر مجھے چھوڑنا چاہتی ہے تو بیشک چھوڑ دے میں تجھے نہیں چھوڑ سکتا۔۲۰۷؎ حبشہ کی طرف ہجرت جب مکہ والوں کا ظلم انتہاء کو پہنچ گیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے ساتھیوں کو بُلوایا اور فرمایا مغرب کی طرف سمندر پار ایک زمین ہے جہاں خد اکی عبادت کی وجہ سے ظلم نہیں کیا جاتا۔مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کو قتل نہیں کیا جاتا وہاں ایک منصف بادشاہ ہے، تم لوگ ہجرت کر کے وہاں چلے جائو شاید تمہارے لئے آسانی کی راہ پید اہو جائے۔کچھ مسلمان مرد اور عورتیں اور بچے آپ کے اس ارشاد پر ایبے سینیا کی طرف چلے گئے۔ان لوگوں کا مکہ سے نکلنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔مکہ