دیباچہ تفسیر القرآن — Page 148
(ب) متی باب ۲۳ آیت ۳۸، ۳۹ میں لکھا ہے:۔’’ دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔جب تک کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے ‘‘۔اِن آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیحؑ اپنی قوم سے عنقریب جدا ہونے والے ہیں اور ان کی قوم پھر اُنہیں نہ دیکھ سکے گی جب تک وہ یہ نہ کہے گی کہ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔اِس عبارت سے ظاہر ہے کہ مسیح کے چلے جانے کے بعد دو الٰہی مظہر ظاہر ہونے والے ہیں۔ایک الٰہی ظہور، مسیح کے غائب ہوجانے کے بعد ہو گا اور وہ خدا تعالیٰ کا ظہور کہلائے گا۔اِس ظہور کے بعد دوبارہ مسیح ظاہر ہوگا۔لیکن جب تک خد اتعالیٰ کے نام پر ظاہر ہونے والا مظہر پیدا نہ ہو جائے اُس وقت تک مسیح د وبارہ دنیا میں نہیں آسکتا اور لوگ اُسے نہیں دیکھ سکتے۔میں پہلے یہ ثابت کر چکا ہوں کہ خد اتعالیٰ کے نام پر ظاہر ہونے والے مظہر سے مراد مثیل موسیٰ ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ تھے۔واقعاتی شہادت کی رو سے بھی اور خود مسیح کی شہادت کی رو سے بھی۔پس ’’ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے‘‘ سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہے اور اس پیشگوئی میں خبر دی گئی ہے کہ مسیح روحانی ارتقاء کا آخری نقطہ نہیں بلکہ آخری نقطہ وہ ہے جو خدا وند کے نام پر آئے گا۔اگر یہ کہا جائے کہ خداوند کے نام پر آنے والے مظہر کے بعد پھر مسیح کو دوبارہ آنا ہے اِس لئے مسیح ہی روحانیت کا آخری نقطہ قرار پائے گا۔تو اِس کا جواب خود حضرت مسیحؑ نے ہی دے دیا ہے۔وہ فرماتے ہیں۔’’ اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہ کہو گے مبارک ہے وہ جو خدا وند کے نام پر آتا ہے‘‘۔یعنی مسیح کو دوبارہ دیکھنا اُسی کے لئے ممکن ہوگا جو مثیل موسیٰ پر ایمان لاچکا ہوگا۔مثیل موسیٰ کا منکر مسیح کو نہیں دیکھ سکے گایعنی اس کو پہچان نہیں سکے گا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح اپنی دوبارہ آمد کے وقت مثیل موسیٰ کے اتباع میں سے ہوگا۔پس وہی شخص مسیح پر ایمان لائے گاجو پہلے اُس کے متبوع پر ایمان لاچکا ہوگا۔پس آنے والا مسیح کوئی علیحدہ وجود نہیں بلکہ مثیل موسیٰ