دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 147

نے چاہا کہ اُسے پکڑ لیں پر عوام سے ڈرے کیونکہ وے اُسے نبی جانتے تھے۔۱۷۱؎ اِس پیشگوئی کا پہلے بھی اشارۃًذکر آتا رہا ہے۔یہ تمثیل جو حضرت مسیحؑ نے بیان فرمائی ہے اس میں آپ نے انبیاء کی تاریخ شروع سے لے کر آخر تک تمثیلاً دُہر ادی ہے۔جیسا کہ خود انجیل کی عبارت سے ظاہر ہے۔تاکستان سے مراد دنیا ہے۔باغبانوں سے مراد بنی نوع انسان ہیں اور مالک کے ٹیکس سے مراد نیکی اور تقویٰ اور خدا کی عبادت کرنا ہے۔ملازموں سے مراد اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہیں جو یکے بعد دیگرے دنیا میں آتے رہے۔خدا کے بیٹے سے مراد خود مسیحؑ ہیں جو انبیاء کے ایک لمبے سلسلہ کے بعد دنیا میں ظاہر ہوئے مگر باغبانوں نے اُن کو صلیب پر لٹکا دیا اور اُن کے پیغام کی طرف توجہ نہ کی۔اِس کے بعد لکھا ہے کہ وہ کونے کا پتھر ظاہر ہو گا جسے راجگیروں نے ناپسند کیا۔یعنی اسمٰعیل کی اولاد جن کو بنو اسحاق حقارت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے تھے اُن میں ایک نبی ظاہر ہو گا اور اُسی کو خاتم النبیین ہونے کا فخر حاصل ہوگا۔اُس کے ذریعہ سے تمام شریعتیں ختم کر دی جائیں گی اور وہ آخری شریعت لانے والا ہو گا۔بنو اسرائیل کو یہ بات عجیب معلوم ہو گی مگر جیسا کہ حضرت مسیحؑ کہتے ہیں باوجود بنو اسرائیل کے ناپسند کرنے کے خدا اُس اسماعیلی نبی کو بادشاہت دے گا اور خدا کی بادشاہت بنو اسرائیل سے لے لی جائے گی اور اُس کی جگہ یہ باغ اِس دوسری قوم کے سپرد کر دیا جائے گا یعنی اُمتِ محمدیہ کے جو اُس کے میوے لاتی رہے گی یعنی خدا تعالیٰ کی عبادت کو دنیا میں قائم رکھے گی۔ہر شخص جو انصاف کے ساتھ غور کرنے کا عادی ہو وہ معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے بعد ظاہر ہونے والے مدعیوں میں سے کوئی بھی سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس پیشگوئی کا مستحق نہیں ہو سکتا۔آخر وہ کون تھا جس سے عیسائیت اور یہودیت ٹکر ائی اور پاش پاش ہو گئی؟ وہ کون تھا جو اِس قوم کے ساتھ تعلق رکھتا تھا جسے بنو اسحاق حقارت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے تھے؟ وہ کون تھا جس پر وہ گرا اُسے اُس نے چور چور کر دیا اور جو اُس پر گرا وہ بھی چور چور ہو گیا۔یقینا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سِوا اس پیشگوئی کا مصداق اور کوئی نہیں۔