دیباچہ تفسیر القرآن — Page 121
محافظ ہو گئے بلکہ وہ دنیا بھر کے تاکستانوں کے آزاد محافظ بن گئے۔(ہ)اسی طرح غزل الغز لات میں یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اسرائیلی سلسلہ کے لوگوں کو چاہئے کہ آنے والے موعود کو خواہ مخواہ اپنی طرف متوجہ نہ کریں ورنہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔چنانچہ لکھا ہے:۔’’ اے یروشلم کی بیٹیو! میں غزالوں اور میدان کی ہرنیوں کی قسم تمہیں دیتا ہوں کہ تم میری پیاری کو نہ جگائو اور نہ اُٹھائو جب تک وہ اُٹھنے نہ چاہے‘‘۔۱۳۴؎ یہی مضمون پھر باب ۳ آیت ۵ میں بیان کیا گیا ہے اور یہی مضمون پھر سہ بارہ باب ۸ آیت۴ میں بیان کیا گیا ہے۔ا ِن عبارتوں کا مطلب یہی ہے کہ جب وہ نبی ہو گاتو یہود اور عیسائی بنی اسرائیل کی دو شاخیں اُسے دِق کریں گی اور وہ اُس کو مجبور کریں گی کہ وہ اُن پر حملہ کرے لیکن چونکہ وہ خد تعالیٰ کی طرف سے ہو گا یہود اور عیسائی اُس کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہو سکیں گے بلکہ خطرناک شکست کھائیں گے۔حضرت سلیمانؑ اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہیں کہ دیکھ! اُس کو جگانا نہیں یعنی اُس کو چھیڑ کر اپنی طرف متوجہ نہ کرنا۔ہاں جب وہ آپ جاگے یعنی جب خدا تعالیٰ کی مشیت چاہے کہ وہ تمہارے ملکوں کی طر ف توجہ کرے تو پھر بے شک کرے مگر خود اُس کو نہ چھیڑنا اس لئے کہ جو قوم خود کسی نبی کو چھیڑتی ہے وہ اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنا لیتی ہے جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑ کر اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنالیا۔لیکن اگر کوئی قوم نہ چھیڑے تو نبی اُس کی طرف جارحانہ طور پر توجہ نہیں کرتا۔صرف وعظ و نصیحت سے اُس کو مخاطب کرتا ہے۔نبی تلوار اُس کے خلاف اُٹھاتے ہیں جو پہلے اُن کے خلاف تلوار اُٹھاتے ہیں اور اُنہی کے خلاف جنگ کرتے ہیں جو خد اکے سچے دین کو مٹانے کے لئے جبرا ور تعدی سے کام لیتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس پر شاہد ہے اور حضرت سلیمان نے اپنی قوم کو اِسی خطرہ سے آگاہ کیا ہے۔یہ پیشگوئیاں کسی صورت میں بھی حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہو سکتیں۔نہ تو مسیح فلسطین کے جنوب میںپیدا ہوئے نہ وہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے تھے نہ اُن کو کوئی ایسی طاقت حاصل تھی کہ اُن کو چھیڑنے کی وجہ سے بنو اسرائیل تباہ ہوتے۔یہ ساری کی ساری پیشگوئیاں