دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 120

کیا ہے اور ا س میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس کی تعلیم بنو اسحاق کے نبیوں کی طرح صرف اپنی قوم کے لئے نہیں ہوگی بلکہ دوسری اقوام کے لئے بھی اُس کے گھر کا دروازہ کھلا ہو گا جس کی طرف زوجہ کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔اس پیشگوئی میں مؤنث کے صیغوںسے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کیونکہ یہ ایک شاعرانہ رنگ کا کلا م ہے چنانچہ اِسی باب کے آخر میں جا کر کہا ہے۔’’ میرا محبوب اپنے باغیچے میں آوے اور اُس کے لذیذ میوے کھاوے‘‘۔۱۳۱؎ یہاں بجائے مؤنث کے مذکر کا صیغہ استعمال کر دیا گیا ہے۔یہ پیشگوئی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سِوا کسی اور پر پوری نہیں ہوتی۔حضرت مسیح بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے نہیں تھے نہ اُن کی تعلیم غیر قوموں کے لئے تھی جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے۔(ج) اِسی طرح غزل الغزلات میں لکھا ہے:۔’’ میں سیاہ فام جمیلہ ہو ں۔اے یروشلم کی بیٹیو! قیدار کے خیموں کی مانند، سلیمان کے پردوں کی مانند مجھے مت تاکو کہ میں سیاہ فام ہوں‘‘۔۱۳۲؎ اِس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک ایسے نبی کی خبر دی ہے جو جنوب کا رہنے والا ہو گا اور بنو اسحق کی نسبت جو شمال کے رہنے والے تھے اُس کا رنگ کم اُجلا ہو گا یا یوں کہو کہ اُس کی قوم کا رنگ کم اُجلا ہو گا۔چنانچہ شامیوں اور فلسطینیوں کے رنگ بوجہ شمال میں رہنے کے عربوں کی نسبت زیادہ سفید ہوتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب میں پیدا ہوئے تھے۔(د) اِسی باب میں پھر آنے والے موعود کی یہ علامت بتائی گئی ہے کہ :۔’’ میری ماں کے بیٹے ناخوش تھے۔انہوں نے مجھ سے تاکستانوں کی نگہبانی کرائی، پر میں نے اپنے تاکستانوں کی جو خاص میرا ہے نگہبانی نہیں کی‘‘۔۱۳۳؎ یہ درحقیقت موعود کی قوم کی طرف اشارہ ہے۔عرب لوگ کہیں قیصر کی نوکری کرتے تھے اور کہیں ایرانیوں کی نوکریاں کرتے تھے مگر خود اپنے ملک کی ترقی کا اُ ن کو کوئی خیال نہ تھا۔یہاں تک کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور انہوں نے اُن کے اندر بیداری پیدا کی اور اُن کی روحانی اور علمی اور سیاسی اصلاح کی جس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ عرب اپنے تاکستانوں کے