صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 64 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 64

66 جلس کے متعلق جو جامنیہ میں منعقد ہوئی۔یہ یادرکھنا ضروری ہے کہ اس نے کوئی معیاری متن نئے سرے سے ترتیب نہیں دیا۔نہ اس نے بہت سی روایات کو مدنظر رکھ کر ان کا تقابل کر کے ایک منتخب ترجمہ تیار کیا۔بلکہ اس نے متن کے متعلق مختلف روایات میں سے ایک کو چن لیا۔اور اسے ہمیشہ کے لئے کامل معیار اور نمونہ مقرر کیا۔اس کے بعد یہود پر طرح طرح کے ادوار آتے رہے۔وہ پراگندہ ہو گئے۔عبرانی زبان مردہ ہوگئی۔اور چونکہ اسمیں حروف علت اور حرکات وسکنات کا نظام موجود نہیں اس لئے کلام مقدس کا ایک متن ہونے کے باوجود مختلف قرآتیں وجود میں آئیں۔اس اختلاف کو مٹانے کے لئے ساتویں صدی عیسوی میں یہودی علماء کی ایک انجمن عمل میں آئی۔جو اس وجہ سے (Massorities) کہلائے کہ انہوں نے (Massorah) یعنی متن کی پہلی روائت کو منظم کیا۔اور کلام مقدس کے تلفظ اور تفسیر کے بارے میں پیدا ہونے والے مسائل کو حل کیا۔چنانچہ وہی متن جو پہلی صدی میں متعین ہو چکا تھا اس کی تزئین و تنقید ساتویں صدی میں کی گئی۔اور یہ عبرانی متن "مسورائی متن" کے نام سے مشہور ہوا عہد عتیق کا سب سے پہلا ترجمہ تیسری صدی قبل مسیح میں یونانی زبان میں کیا گیا۔اسرائیل کے تمام قبائل سے منتخب کئے گئے ستر علماء نے سکندریہ میں شاہ مصر کی درخواست پر یہ کام سرانجام دیا۔اس بناء پر اس کو سبعینہ “ کا نام دیا گیا۔شروع میں صرف تو راہ کا ترجمہ کیا گیا۔دیگر کتب کے تراجم بعد میں مختلف مترجمین نے شامل کئے۔اس میں وہ کتب بھی شامل ہیں۔جو آج کل پا کر افا" کہلاتی ہیں۔جب عیسائی مذہب نے عام منادی شروع کی تو عیسائی اور یہودی مناظروں میں عیسائی مناظر سبعیہ کو یہودیوں کے خلاف استعمال کرتے۔چنانچہ یہودی اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔اور چرچ نے اسے کتاب مقدس کے طور پر اختیار کر لیا۔یہودیوں نے اس کے مقابل پر یونانی تراجم تیار کئے ان میں Aquila کا ترجمہ زیادہ مشہور ہے جو اس نے دوسری صدی عیسوی کے نصف میں کیا۔اس کے مدنظر مسورائی The dead sea scrolls by Allegro P-61 ✓