صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 27 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 27

28 14 صفحات ہیں۔شروع کے آٹھ صفحات کا خط مختلف ہے۔ان میں سے ہر ایک کی 23 سطور ہیں۔باقی چاروں صفحات کی نچلی سطور غائب ہیں۔صحیفہ ب ایک ہی لمبی سختی کے دونوں طرف لکھا ہوا ہے۔اسکے شروع میں صحیفہ الف کے صفحات 7 اور 8 کی عبارت بہت ردو بدل کے ساتھ درج ہے۔محققین کا خیال ہے کہ یہ دونوں نسخے دسویں یا بارہویں صدی عیسوی کی تحریر ہیں۔ان نسخوں کی وجہ سے محققین کا خیال ہے کہ جماعت ایسین کا ایک حصہ دمشق کی طرف ہجرت کر گیا تھا۔شکرانے کے مناجات:۔یہ صحیفہ 1947 ء میں غار نمبر 1 سے دستیاب ہوا یہ دو بنڈلوں کی صورت میں تھا۔کچھ قطعات ایک بنڈل میں گول کئے ہوئے تھے۔باقی قطعات بری طرح پھٹے ہوئے تھے۔یہ ایک تختی میں علیحدہ لیٹے ہوئے تھے۔یہ بڑی تختی صحیفے کے درمیانی حصہ سے تعلق رکھتی ہے۔پہلے بنڈل کو کھولنے سے تین تختیاں حاصل ہوئیں۔باہر والی میں چار کالم ہیں۔اس سے اندرونی سختی کے دو ٹکڑے ہیں۔اس پر بھی چار کالم ہیں۔اندرونی سختی پر بھی چار کالم ہیں۔مگر آخری ڈیڑھ کالم کا خط مختلف ہے۔تختیوں کو سینے کے لئے سوراخ نکالے ہوئے ہیں۔دوسرے بنڈل کی باہر والی تختی پر پہلے خط میں تین کالم لکھے ہوئے ہیں۔درجن بھر چھوٹے چھوٹے قطعات کو ترتیب دینے سے دومزید کالم حاصل ہوئے ہیں۔یہ دوسرے خط میں ہیں۔66 ٹکڑے ان کے علاوہ اس بنڈل سے ملے ہیں یہ اس قدر چھوٹے ہیں کہ بعض پر چند الفاظ اور بعض پر چند حروف ملتے ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ سب تختیاں اور قطعات ایک ہی صحیفے کے پھٹ جانے سے بن گئے ہیں۔اس صحیفے کا خط خراب ہے۔اور دوسرے ہاتھ کی لکھائی بہت خراب ہے۔چونکہ صحیفہ مختلف زبوروں پر مشتمل ہے اس لئے مضامین کی بنیاد پر اس کی تختیوں اور ٹکڑوں کو ترتیب دینا انتہائی مشکل ہے۔اکثر زیور ان الفاظ سے شروع ہوتے ہیں: " میں تیرا شکر کرتا ہوں، میرے آقا! اس وجہ سے اس صحیفے کو " شکرانے“ کے زبور کہا جاتا ہے۔محققین کی ایک جماعت اسبات کو تسلیم کرتی ہے کہ یہ زبور ایسینی آقا، استاد صادق کا وو