صحائف وادئ قمران — Page 26
27 یه میفہ سیدھا لیٹا ہوا ہے۔اس کی اوپر کی جانب معمولی نقصان پہنچا ہے۔مگر مچلی جانب نقصان نسبتاً زیادہ ہوا ہے۔اور یہ کنارہ لہروں کی صورت اختیار کر چکا ہے۔صحیفہ چڑے کی چار تختیوں پر مشتمل ہے پہلی اور تیسری دونوں پر تین تین کالم ہیں۔لیکن دوسری پر چار اور چوتھی پر صرف ایک کالم ہے۔یہ تین مختلف ہاتھوں کا لکھا ہوا ہے۔سب کا خط اچھا ہے۔مگر ان میں سے کوئی بھی خوشنویس نہ تھا۔صحیفے کی کئی جگہ اصلاح کی گئی ہے۔یہ اصلاح کہیں بین السطور لکھ کر کہیں اصل عبارت کو مٹا کر اور کہیں پہلی عبارت کے اوپر نئے الفاظ لکھ کر کی گئی ہے۔کالم ایک تا پانچ کی چوڑائی غیر مساوی ہے۔ہر کالم میں 26 سطور ہیں۔مگر کالم 4تا9 میں ہر ایک کی 27 سطور میں سطروں کا درمیانی فاصلہ بھی برابر نہیں۔بلکہ بعض سطور خالی پڑی ہیں۔دو تہائی حصہ لکھا ہوا ہے۔مگر یہ بہت تنگ لکھا گیا ہے۔یہاں تک کہ اس کے دو تہائی حصے میں 22 سطور آگئی ہیں۔صرف کالموں کے حاشیے لگائے ہوئے ہیں۔سطور کے لئے لکیریں نہیں لگائی گئیں۔صحیفے پر کئی جگہ ربیوں کے دستخط ہیں۔مگر یہ پڑھے نہیں جا سکتے۔وو اس کا زمانہ تحریر 90 ء تا 110 عیسوی بتایا جاتا ہے۔اور یہ 115ء میں غار میں رکھا گیا لے صحیفہ دمشق: یہ دستاویز صحائف قمران کی دریافت سے بہت پہلے انیسویں صدی کے آخر میں ، قاہرہ سے ملی تھی۔قاہرہ سے ملنے والے دو نسخوں میں سے ایک کو ”الف“ اور دوسرے کو ب سے ظاہر کیا جاتا ہے۔صحائف قمران کی دریافت پر اس دستاویز کے ٹکڑے وادی قمران کی غار نمبر 4-5 اور 6 سے بھی حاصل ہوئے۔ان قطعات کی مختلف تحریریں بتاتی ہیں کہ اس صحفے کے کم از کم سات نسخے جماعت ایسین میں مستعمل تھے۔ان میں سے ایک نسخہ ہے پیرس کا تھا۔اور باقی چمڑے کے۔کہوف قمران سے حاصل ہونے والے نسخوں کا متن صحیفہ الف سے ملتا ہے۔مگر قمرانی نسخوں کے شروع اور آخر میں بہت سی زائد عبارات شامل ہیں۔صحیفہ الف آٹھ تختیوں پر مشتمل ہے جو دونوں طرف سے لکھی ہوئی ہیں۔یعنی اس کے The Riddle of the Scrolls P-127 L