صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 194 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 194

199 نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو۔جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے۔اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔“ اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا اپنے مال اسباب بیچ کر خیرات کر دو۔“ لوقا 12/33 نیز یوحنا کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودا کے پاس ایک تھیلی رہتی تھی جس میں حضرت مسیح اور آپ کے شاگردوں کا مال جمع رہتا تھا۔(یوحنا 12/6) جب ایک آدمی نے مسیح کے پاس آکر ہمیشہ کی زندگی پانے کی درخواست کی تو آپ نے اس کو درج ذیل ہدائت فرمائی۔فرمایا ایک بات کی تجھ میں کمی ہے۔جا جو کچھ تیرا ہے بیچ کر غریبوں کو دے۔“ 66 مرقس 10/21 ایسینی اپنے آپ کو غریب کہتے تھے۔اس لئے مسیح کا یہ فرمانا کہ اپنا مال بیچ کر غریبوں کو دے دو دراصل اس طرف اشارہ تھا کہ جا کر ایسینیوں میں داخل ہو جاؤ۔کیونکہ آپ ایسینی فرقے کی اس شاخ کے صدر تھے جو آپ پر ایمان لا چکی تھی۔بعض محققین نے اس نظریے کے خلاف کچھ اعتراضات اٹھائے ہیں۔مثلاً وہ کہتے ہیں کہ عیسائیت میں مسیح کی صلیبی موت کو باعث نجات ٹھہرایا جاتا ہے۔حالانکہ صحائف قمران سے معلوم ہوتا ہے کہ استاد صادق کی وفات کے ساتھ کوئی ایسا عقیدہ وابستہ نہ تھا۔اس اعتراض کا جواب ہاورڈ کلارک کی نے دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ Q ماخذ میں جس پر متی اور لوقا کی بنیاد ہے۔مسیح کی موت اور تکالیف کو ذریعہ نجات نہیں ٹھرایا گیا۔بلکہ ابتدائی مسیحیوں کے ہاں آپ کے امتیاز کی وجہ وہ معرفت تھی جو آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے ملی تھی۔اور کفارے کا نظریہ پولوس کی پیداوار ہے۔جو اس نے 1 کرنتھیوں 24-1/18 میں بیان کیا۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں۔"In Q there is no theological meaning