صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 187 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 187

192 آ رہی ہے۔عہد عتیق میں چھوٹے بڑے تمام انبیاء اور ملوک کے حالات محفوظ ہیں۔یہاں تک کہ قضاۃ کی کتاب میں بنی اسرائیل کے قاضیوں کے حالات بھی محفوظ کر لئے گئے ہیں۔چنانچہ اگر یروشلم سے صرف سات میل دور ایک عظیم الشان نبی بر پا ہوا، حکومت وقت اور کاہن اعظم سے اس کو شدید اختلافات رہے، یہاں تک کہ اس کا مقدمہ یہودی عدالت میں فیصلہ ہوکر اسے صلیب پر لٹکایا گیا، اور ایک کثیر جماعت نے اس کی پیروی کی تو کس طرح ممکن ہے کہ یہود نے اس کی تاریخ کو محفوظ نہ کیا ؟ پس اگر استاد صادق کو جماعت ایسین کا بانی قرار دیا جائے۔تو یہودی تاریخ کی رو سے اسے نبی قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس صورت میں مسیح علیہ السلام کو استاد صادق کا بروز قرار دینے کا مطلب، الوہیت تو خیر پہلے ہی غلط ہے، مقام نبوت سے بھی نیچے گرانا ہوگا۔کیونکہ نبی اس لئے مبعوث ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔اور دنیا اسکی پیروی میں معاصی سے چھٹکارا پا کر اللہ تعالیٰ سے وصال حاصل کرے۔جو کہ نجات کی حقیقت ہے۔آزاد نبی کے مقام کے یہ منافی ہے کہ وہ اپنے غیر کی اتباع اس حد تک کرے کہ قدم قدم پر اسکی راہنمائی کا محتاج ہو۔اور بڑے بڑے دینی کارناموں سے لے کر معمولی سے معمولی کاموں تک بھی دوسرے سے اخذ کرے۔اور اس کے بغیر ایک قدم بھی اٹھانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو۔ایسا خیال رکھنا حضرت مسیح علیہ السلام پر بہت بڑا الزام ہے۔جو آپ کی عزت کو خاک میں ملاتا۔اور آپ کو حلقہ انبیاء سے خارج کر کے استاد صادق کے متبعین میں جگہ دیتا ہے۔دنیا کے دونوں غالب مذاہب کے مسلمات کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام اللہ تعالی کے برگزیدہ رسول تھے۔آپ کے متعلق ایسے نظریات کی اشاعت، آپ کی توہین کرنے کے علاوہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنا ہے۔پس اس وجہ سے ڈونیٹ سومر کا نظریہ قابل قبول نہیں۔صحیح حل۔دراصل یہ ساری مشکلات اس وجہ سے پیش آرہی ہیں کہ استاد صادق کو جماعت ایسین کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔حالانکہ صحائف کی روشنی میں ایسا کرنا صریح غلطی ہے۔کیونکہ ایسینوں کے قوانین و روایات ابتداء میں محض زبانی تھے۔اور کاہنوں کے سینوں