صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 186 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 186

191 که دراصل یہی استاد صادق تھے۔اس مشکل سے بچنے کے لئے انہوں نے استاد صادق کو جماعت ایسین کا بانی قرار دے کر مسیح اور استاد صادق میں بُعد زمانی پیدا کر دیا۔اور اپنے خیال میں حضرت مسیح کی لگا نعمت کو بچا لیا۔لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈونیٹ سومر نے نظریۂ بروز پیش کر دیا۔اس نظریے کی اشاعت پر عیسائی حلقوں میں اس کی بڑی مخالفت ہوئی۔کیونکہ موجودہ مسیحیت کی بنیاد الوہیت مسیح پر ہے۔جس کے قائم رہنے کے لئے ان کا بے نظیر ہونا۔ضروری ہے۔ڈونیٹ سومر نے نظریہ بروز پیش کر کے عیسائیت کی جڑوں پر کلہاڑا رکھ دیا۔نتایج: بروز اور ظل کا عقیدہ مذہبی دنیا کی مسلمہ حقیقت ہے۔ہمیں اس سے انکار نہیں۔نہ ہی ہمیں مسیح کی الوہیت کی کچھ حاجت ہے۔ہمیں صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ اگر مسیح کو استاد صادق کا طل قرار دینا ہے۔تو ظلیت کے مسائل کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔محل کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اصل کی پیروی کرے۔اور اسی کی تعلیمات کو دنیا میں پھیلائے۔کیونکہ ظل کے معنے عکس کے ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کل اپنے اصل کی تعلیمات کی مخالفت کر کے اس کا ظل نہیں کہلا سکتا۔مثلاً استاد صادق نے توحید کی تعلیمات دی۔اب مسیح علیہ السلام تثلیث کی تعلیم دے کر کیونکر اس کے ظل قرار پا سکتے ہیں؟ استاد صادق نے شریعت موسویہ کی پابندی ضروری قرار دی۔مسیح علیہ السلام اسی شریعت کو لعنت قرار دیکر کیونکر اس کے بروز قرار پاسکتے ہیں؟ استاد صادق نے نجات کے لئے دلی پاکیزگی اور خلوص نیت کے ساتھ خدا کے احکام کی پیروی اور توبہ و استغفار کو ضروری قرار دیا۔ذرا سوچئے کہ میخ ، کفارے کو مدار نجات ٹھہرا کرکس طرح اس کے بروز بن سکتے ہیں؟ پس اگر مسیح علیہ السلام واقعی استاد صادق کے بروز تھے۔تو مسیحیوں کے لئے ضروری ہے کہ الوہیت مسیح، تثلیث اور کفارے کے تینوں عقائد کو خیر باد کہہ کر تو حید خالص کی پیروی کریں۔اور حقیقی نجات پانے کے لئے لعنتی قربانی پر ایمان لانے کی بجائے خدا تعالی کے حضور اپنے فس کی قربانی پیش کریں۔عصمت انبیاء: یہودی تاریخ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر آج تک محفوظ چلی