صحائف وادئ قمران — Page 147
151 جنوب میں ہیں دوسری بغاوت (135-132 ء ) تک کے صحائف ملے ہیں۔ان صحائف کا تعلق وادی قمران کے صحائف سے ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔اس لئے یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ 68ء کے بعد اخوت ایسین کا کچھ حصہ وادی مربعات کی غاروں میں پناہ گزین ہوا۔باقی لوگ یا تو ہلاک ہو گئے یا عیسائیت میں جذب ہو گئے اور بطور فرقہ کے ان کا کوئی الگ وجود نہ رہا۔صحائف کا زمانہ صحائف کی وسعت زمانی:۔غاروں سے ملنے والے صحائف سے متعلق محققین کا یہ خیال ہے کہ ان میں سے اکثر نئی تصانیف ہونے کی بجائے پرانی تصانیف کی نقول ہیں جو وادی قمران میں تیار کی گئیں۔اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ اکثر صحائف کے کئی کئی نسخے یا نسخوں کے ٹکڑے ملے ہیں۔اور بہت سے صحائف کا تعلق بائبیل کی مقدس کتب اور اس کے متعلق دیگر غیر مستند لٹریچر سے ہے۔اس قسم کے صحائف کو کسی صورت میں بھی ابتدائی تصانیف قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس کے علاوہ جو صحائف خالصۂ اخوت ایسین سے تعلق رکھتے ہیں۔متعدد دستور العمل صحیفہ دمشق جماعت کا دستور العمل اور تفاسیر حبقوق و ناحوم۔۔۔وغیرہ ان کے بھی متعدد نسخے یا ان سے متعلق قطعات برآمد ہوئے ہیں۔مختلف نسخوں میں کئی جگہ اختلافات بھی ملتے ہیں۔اس سے یہ نتیجہ نکالنے میں مدد ملی ہے کہ جماعت اپنی تاریخ میں ترقی کے کئی مراحل طے کر چکی تھی۔ہر مرحلے پر قوانین کا ایک نیا مجموعہ ضروری ترامیم کے ساتھ تیار کیا گیا۔بعض صحائف انفرادی مضامین کا مجموعہ ہیں۔ان کا تعلق زیادہ تر دینیات سے ہے۔زبور اور مناجات ان کی بہترین مثالیں ہیں۔یہ بہر حال نئی تصانیف ہیں۔اسی وجہ سے ان کے زیادہ نسخے دریافت نہیں ہوئے۔اکثر محققین کا خیال ہے کہ مناجات کے صحیفے میں استاد صادق کی تخلیقات ہیں غاروں سے ملنے والے صحائف کو گول کرنے کے بعد کپڑے میں لپیٹا