صحائف وادئ قمران — Page 131
135 ہی روح انسانی بھی مر جاتی ہے۔اور اس کی زندگی بھی وہیں پر ختم ہو جاتی ہے۔یروشلم کے زوال کے ساتھ ہی یہ فرقہ اقتدار کھو بیٹھا اور آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔فریسی فریسی علیحدگی پسند خیالات کے حامل تھے۔حضرت مسیح سے تقریباً 150 سال قبل انہوں نے طاقت حاصل کی یہ شریعت کی سختی سے پابندی کرتے تھے۔اگر چہ سردار کا ہن صدوقیوں میں سے ہوتا تھا۔تاہم تعداد میں اکثریت فریسیوں کو حاصل تھی۔اور حضرت مسیح کے زمانے میں یہ سب سے بڑا فرقہ خیال کیا جاتا تھا۔فریسی توراۃ کی اہمیت پر بہت زور دیتے تھے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ احادیث، تفاسیر کو بھی اہم خیال کرتے تھے۔ان کا خیال تھا کہ شریعت اور روایات کی پیروی کے ساتھ مقدس تہواروں پر عمل کرنے۔خیرات دینے اور روزے رکھنے سے انسان اللہ کو خوش کر سکتا ہے وہ مادی زندگی کے نظریے کے خلاف اخروی زندگی کے قائل تھے۔فرشتوں کو تسلیم کرتے تھے۔بعث بعد الموت اور روح کی بقاء کے قائل تھے۔لیکن جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہے کہ وہ ان امور کی ظاہری بجا آوری پر زیادہ زور دیتے تھے۔اس کے لئے لوقا 44-11/37 ملاحظہ ہو۔’ جب وہ بات کر رہا تھا کسی فریسی نے اس (حضرت مسیح ناقل ) کی دعوت کی۔پس وہ اندر جا کر کھانا کھانے بیٹھا۔فریبی نے یہ دیکھ کر تعجب کیا کہ اس نے کھانے سے پہلے غسل نہیں کیا۔خداوند نے اس سے کہا اے فریسیو! تم پیالے اور رکابی کو اوپر سے تو صاف کرتے ہو لیکن تمہارے اندر ٹوٹ اور بدی بھری ہے۔اے نادانو ! جس نے باہر کو بنایا۔کیا اس نے اندر کو نہیں بنایا ؟ ہاں اندر کی چیزیں خیرات کر دو تو دیکھو سب کچھ تمہارے لئے پاک ہوگا۔لیکن اے فریسیو ! تم پر افسوس کہ پودینے اور سداب اور ہر ایک ترکاری پر وہ یکی دیتے ہو اور انصاف اور خدا کی محبت سے غافل رہتے ہو۔لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔اے فریسیو! تم پر افسوس کہ تم عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کرسیاں اور بازاروں میں سلام چاہتے ہو۔تم پر افسوس۔کیونکہ تم ان پوشیدہ قبروں کی مانند ہو جن پر آدمی چلتے ہیں اور ان کو اسبات کی خبر نہیں۔