صحائف وادئ قمران — Page 130
134 مردار کے کنارے پر آباد ہو گئے تھے۔لے یہودی فرقے اس زمانہ میں جس میں حضرت مسیح علیہ السلام مبعوث ہوئے۔یہودیوں کے تین بڑے فرقے تھے۔یعنی فریسی۔صدوقی اور ایسینی۔ان میں سے پہلے دونوں فرقوں کا ذکر حضرت مسیح نے بار بار انجیل میں کیا ہے اور ان کو ان کی غلطیوں سے آگاہ کر کے راہ راست کی طرف بلایا ہے۔لیکن تیسرے فرقے یعنی ایسینیوں کو انجیل میں بظاہر کہیں بھی مخاطب نہیں کیا گیا۔اس لئے اس کے حالات کو جاننے کے لئے ہمیں کتب تاریخ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔صدوقی: حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانے میں یہودیوں کا غالب فرقہ صدوقی تھا۔بعض محققین کا خیال ہے کہ ان کا نام صدوقی اس وجہ سے تھا کہ وہ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کے سردار کا ہن صادق کی طرف منسوب ہوتے تھے۔لیکن بعض کہتے ہیں کہ اس فرقے کا بانی صادق نامی سردار کا ہن نہ تھا بلکہ کوئی اور استاد تھا جس کی تعین نہیں کی جاسکی۔پہلی اور دوسری صدی قبل مسیح میں صدوقیوں کو سیاسی بالا دستی حاصل تھی۔اور خاص طور پر امراء کا طبقہ ان کے ساتھ تھا اس چیز کا اندازہ اس امر سے بھی ہوتا ہے۔کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے اور بعد لمبے عرصہ تک سردار کا ہن صدوقی ہوا کرتا تھا۔سیاسی بالا دستی کے باوجود یہ فرقہ تعداد میں کم تھا۔اس لئے مضبوط حکومت کے حق میں تھا اور اپنے لئے حکومت کی سر پرستی کو ضروری خیال کرتا تھا۔صدوقی صرف تورات پر اعتقاد رکھتے مط تھے اور اسی وجہ سے ان کے اعمال کا مح نظر مادی دنیا کا حصول تھا۔آخرت کے منکر تھے اسی طرح فرشتوں، جنوں ارواح اور جزاء سزا پر ان کا اعتقاد نہیں تھا۔وہ کہتے تھے کہ جسم کے ساتھ ل بروز لکھتا ہے:۔It is widely assumed that the men of Qumran were the Essenes described by Josephus & Philo and a few of the church fathers۔(More light on Dead Sea Scrolls P۔253 also see 263۔ترجمہ : عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ جماعت قمران ایسینی تھے۔جن کا ذکر جوزیفس ، فلو اور بعض آباد کلیسیاء نے کیا ہے۔