صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 113 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 113

116 چنانچہ عوام کیطرف سے علماء پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا جارہا ہے اور ان یہودی عقائد سے کھلم کھلا بیزاری کا اظہار کیا جارہا ہے۔چنانچہ علماء یہ چیز شدت کے ساتھ محسوس کر رہے ہیں کہ ان عقائد میں تبدیلی کے بغیر چارہ نہیں ہے۔محققین اب اس چیز کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔کہ عقائد میں تو تبدیلی سے گزارہ ہو جائے گا۔لیکن بعض عقائد کو مکمل طور پر خیر باد کہنا ہوگا۔ان میں الوہیت مسیح ، کفارہ، گنہگار انسانیت کے علاوہ اقوم ثالث یعنی روح القدس کا عقیدہ بھی شامل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسینی صحائف میں ان عقائد کا ذکر نہیں ملتا۔چنانچہ ہیریسن لکھتے ہیں: "Mhilnt the writing of the seet exhibited certain points of contact with the documents which proceeded from the apostolic circle, it is significant that the cordinal Christian doctrines of the incarnate deity۔Original sin, redemption through the words of Calvary and the activity of the Holy Spirit as a normative part of Christian experience are nowhere to be found in the dead sea scrolls۔" (teach yourself book: the Dead Sea Dcrolls P۔123) ترجمہ: جب کہ فرقے کی تحریرات سے کئی جگہ رسولوں کے عہد کی دستاویزات کے ساتھ تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ مجسم خدا فطرتی گناہ بذریعہ صلیب اور روح القدس بطور بنیادی مسیحی عقائد صحائف قمران میں بالکل نہیں تھے۔الوہیت بیح:۔جیسا کہ تمام انبیاء کی بعثت کا مقصد توحید الہی کا قیام ہوتا ہے۔مسیح علیہ السلام بھی اسی عظیم الشان مقصد کے لئے دنیا میں آئے۔اور یہی تعلیم دیتے رہے۔لیکن آپ کے بعد جان بوجھ کر یا سادگی سے آپ کے متبعین نے آپ کو خدائی عرش پر بٹھایا اور آپ کو حقیقی معنوں میں ابن اللہ قرار دیا۔لیکن فطرت انسانی ایک سے زیادہ خداؤں کو تسلیم نہیں