صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 109 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 109

112 things of this world he is certainly very close the covenenters۔" ترجمه و لیکن غربت اور اس دنیا کی اشیاء کے متعلق رویے میں وہ یقینی طور پر معاہدین کے بہت قریب ہے۔“ جس طرح مسیح علیہ السلام کا الہام فی ذاتہ شرعی احکام پر مشتمل نہ تھا بلکہ اس کا مقصد عہد عتیق کی تشریح تھا۔اسی طرح استاد صادق پر بھی وحی تشریح نازل نہ ہوئی تھی۔بلکہ ان کی بعثت کا مقصد صرف عہد عتیق کے صحیح مفہوم کو واضح کرنا تھا ہے اخوت ایسین میں ہر رکن کو ایک خاص درجے میں رکھا جاتا تھا اور ہر رکن کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے سے بلند درجہ رکھنے والے اراکین کی کسی بھی رنگ میں تو ہین کا مرتکب نہ ہو۔انا جیل میں بھی حفظ مراتب اور تعظیم بزرگاں کی تعلیم دی گئی ہے متی 23/10 اس کی مثال ہے جماعت قمران میں داخلے کے لئے ہر رکن کو پانی سے اپتسمہ دیا جاتا تھا عیسائیت نے بیتہ بھی اس رسم کو اپنایا۔ایسینی اور عیسائی دونوں اپنے آپ کو حقیقی اسرائیل، برگزیدہ، خدا کے ساتھ قدیمی عہد پر قائم، غربت ، خدا کی راہوں پر چلنے والے، اپنائے نور، نئے عہد نامے کی جماعت کہلاتے تھے۔(پطرس 2/9 اور دستورالعمل ) دونوں ہی عہد عتیق کو کتاب مقدس قرار دیتے تھے۔دونوں کے ہاں ایک ہی قسم کا کیلنڈر رائج تھا جو شمسی تھا اور جو بلی اور حنوک کی کتب میں بیان ہوا ہے۔مس اے حابرٹ نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ایسینیوں کی طرح پرانی مذہبی تقویم کی پیروی کرتے تھے۔اس نظریے سے اناجیل میں عید فسح کا جھگڑا جو قدیم سے علماء کے لئے پریشان کن تھا حل ہو جاتا ہے یہ عید 14 نیسان کو ہوتی تھی جو مجوزہ کیلنڈر کے مطابق ہر حالت میں منگل کو آتی ہے۔واقعہ صلیب یقینی طور پر جمعہ کے دن پیش آیا۔اس دن باقی یہودی فرقوں کی عید فسح تھی جو سردار کا ہن کے تابع تھے۔اس Impact of the Dead sea scrolls۔P-134 ↓ The Dead sea scrolls by Millar Barows۔P-331 ✓