صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 108 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 108

111 " جماعت قمران اپنے آقا کو استاد صادق کا لقب دیتی ہے۔اسی طرح انجیل میں مسیح علیہ السلام کو ”نیک استاد کہہ کر پکارا گیا ہے استاد صادق“ اور ”نیک استاد دونوں کے لئے عبرانی میں ایک ہی الفاظ آتے ہیں۔پس بنیادی طور پر یہ ایک ہی لقب ہے۔بظاہر جو فرق نظر آتا ہے ترجمے کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔دونوں جماعتیں اپنے عقاید کی تائید کے لئے عہد عتیق سے ایک ہی عبارت پیش کرتی ہیں۔مثلامتی نے یسعیاہ کے حوالے سے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے۔وو 66 بیابان میں پکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خداوند کی راہ تیار کرو۔اس کے راستے سیدھے بناؤ کے بالکل یہی عبارت جماعت قمران کے صحیفہ دستور العمل میں درج ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ جو الفاظ مستی نے دیئے ہیں وہ موجودہ مسورائی متن میں یسعیاہ کی عبارت سے مختلف ہیں لیکن دستور العمل میں لفظ بلفظ متی کی عبارت ہے۔جماعت قمران نور کی ابدی فتح کے لئے ایک عظیم الشان معر کے کی تیاری کر رہی تھی۔مسیح علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو اس کی تیاری کے لئے کپڑے بیچ کر بھی تلوار میں خریدنے کا حکم دیا۔اگر چہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس رنگ میں سمجھا گیا تھا اس رنگ میں دونوں میں سے کسی بھی جماعت کو معرکہ پیش نہیں آیا تا ہم تیاری دونوں کر رہے تھے۔ایسینیوں کی طرح ابتدائی کلیسیاء میں بھی اشتراک اموال کا طریق جاری تھا اور ہر نئے رکن کے لئے یہ ضروری تھا کہ اپنا سارا مال بیچ کر ساری جماعت کے حوالے کر دے اگر کوئی اپنے اموال کی غلط رپورٹ دیتا تو اس کو سخت سزا دی جاتی تھی۔ہے ایسینی دنیاوی تعلیمات کو چھوڑ کر بیابان میں جا کر آباد ہو گئے تھے اور غربت کی زندگی کو پسند کرتے تھے ابتدائی عیسائیوں میں بھی یہ چیزیں نمایاں نظر آتی ہیں۔گلگیز مسیح علیہ السلام کے ذکر پر لکھتے ہیں: "But in his attitude towards poverty and متی 3/3 ، اعمال 4/32