دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 14 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 14

14 صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ علہ دروازہ نہیں کھولنا چاہئے ایسانہ ہو کہ کوئی فساد کرے۔حضرت حمزہ نئے نئے ایمان لائے ہوئے تھے وہ سپاہیانہ طرز کے آدمی تھے انہوں نے کہا دروازہ کھول دو میں دیکھوں گا وہ کیا کرتا ہے۔چنانچہ ایک شخص نے دروازہ کھول دیا۔حضرت عمر آگے بڑھے تو حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا عمر تم کب تک میری مخالفت میں بڑھتے چلے جاؤ گے حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ میں مخالفت کے لئے نہیں آیا میں تو آپ کا غلام بننے کے لئے آیا ہوں۔وہ عمر جو ایک گھنٹہ پہلے اسلام کے شدید دشمن تھے اور حضرت رسول کریم ں کو مارنے کے لئے گھر سے نکلے تھے ایک آن میں اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے حضرت عمر مکہ کے رئیسوں میں سے نہیں تھے لیکن بہادری کی وجہ سے نوجوانوں پر آپ کا اچھا اثر تھا جب آپ مسلمان ہوئے تو صحابہ نے جوش میں آکر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔اس کے بعد نماز کا وقت آیا تو حضرت رسول کریم ﷺ نے نماز پڑھنی چاہی تو وہی عمر جو دو گھنٹے قبل گھر سے اس لئے نکلا تھا کہ حضرت رسول کریم عملے کو مارے۔اُس نے دوبارہ تلوار نکال لی اور کہا یا رسول الله ! خدا تعالیٰ کا رسول اور اُس کے ماننے والے تو چھپ کر نمازیں پڑھیں اور مشرکین مکہ باہر دندناتے پھریں یہ کس طرح ہو سکتا ہے میں دیکھوں گا کہ ہمیں خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے سے کون روک سکتا ہے۔" تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ۱۴۱ تا صفحه ۱۴۳