دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 397

دعوت الامیر — Page 54

دعوة الامير کرنے والا ہے۔اس کے اندر روحانی ترقیات کی اس قدر راہیں بیان کی گئی ہیں کہ اس سے پہلے کی کتب میں ان کا عشر عشیر بھی بیان نہیں ہوا اور اگر انہیں یہ بات معلوم ہو جاتی تو وہ کنویں کے مینڈک کی طرح اپنی حالتوں پر خوش نہ ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں تلاش کرنے میں قدم مارتے اور اگر وہ لفظوں کی بجائے دلوں کی اصلاح کی قدر جانتے تو ظاہر علوم کے پڑھ لینے پر کفایت نہ کرتے بلکہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتے اور اگر یہ خواہش ان کے دل میں پیدا ہو جاتی تو پھر ان کو یہ جستجو بھی پیدا ہوتی کہ قرآن کریم نے کس حد تک انسان کے لئے ترقی کے راستے کھولے ہیں اور تب انہیں معلوم ہو جاتا کہ وہ ایک چھلکے پر خوش ہو کر بیٹھ رہے تھے اور ایک خالی پیالہ منہ کو لگا کر مست ہونا چاہتے تھے۔کیا وجہ ہے کہ وہ سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں، لیکن ان کے دل میں کبھی یہ خواہش نہیں پیدا ہوتی کہ وہ انعام جو اس کے اندر بیان کئے گئے ہیں ہمیں بھی ملیں۔وہ رات دن میں پچاس دفعہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (سورة الفاتحہ آیت ۶۔۷) پڑھتے ہیں، لیکن ان کے دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہوتا کہ وہ کونسا انعام ہے جو ہم طلب کر رہے ہیں۔اگر وہ ایک دفعہ بھی سمجھ کر نماز پڑھتے تو ان کا دل اس فکر میں پڑ جاتا کہ صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم سے کیا مراد ہے اور پھر ان کی توجہ خود بخود سورۃ النساء کی ان آیات کی طرف پھر جاتی کہ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوْعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا هِ وَإِذًا لَأَتَيْنَهُمْ مِنْ لَّدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا وَلَهَدَيْنَهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا ه ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا (النساء: ۶۷-۷۱) یعنی اگر لوگ اسی طرح