دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 397

دعوت الامیر — Page 40

(r۔) دعوة الامير اس کی سطح پر پہاڑ پیدا کئے اور زمین میں بہت سے سامان پیدا کئے اور ہر قسم کی غذا میں بھی اس میں پیدا کیں۔یہ سب کام زمین کا پیدا ہونا پھر اس میں ہر قسم کے سامانوں اور جانوروں کا پیدا ہونا چار زمانوں میں اختتام کو پہنچا اور یہ بات ہر قسم کے سائلوں کے لئے برابر ہے۔یعنی یہ مضمون گو بڑے بڑے مسائل طبعیہ اور دقائق علمیہ پر مشتمل ہے جو کچھ تو اس زمانے میں ظاہر ہو چکے ہیں اور کچھ آئندہ زمانوں میں ظاہر ہوں گے اور نئے نئے سوال اس کے متعلق پیدا ہوں گے۔مگر ہم نے اس کو ایسے الفاظ میں ادا کر دیا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ اور ہر زمانے کے آدمی اپنے اپنے علم اور اپنے اپنے زمانے کی علمی ترقی کے مطابق اس میں سے صحیح جواب پالیں گے جو اُن کے لئے موجب تشقی ہوگا۔غرض قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب اشیاء جن کا قرآن کریم میں اَنْزَلْنَا کے لفظ کے ساتھ ذکر ہوا ہے آسمان پر سے نازل نہیں ہوئیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی زمین میں پیدا کیا ہے۔پس اسی طرح آنے والے مسیح کی نسبت بھی لفظ نزول اس کے مقام کے اجلال اور اس کے درجہ کی عظمت کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ اس سے یہ مراد ہے کہ وہ فی الواقع آسمان سے اترے گا۔چنانچہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور سب مفسر اس سے آپ کے شرف کا اظہار مراد لیتے ہیں اور وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ آپ مکہ مکرمہ میں قریش کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے اور آپ کے والد کا نام عبد اللہ تھا اور آپ کی والدہ کا نام آمنہ تھا۔وہ آیت جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول کا ذکر ہے یہ ہے۔قد انْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولاً يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّهِ مُبَيِّنَتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِيْنَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصلتِ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ (الطلاق: ۱۱-۱۲) یعنی اللہ تعالیٰ