دعوت الامیر — Page 39
(ra) دعوة الامير نزول کا لفظ ہے اور اس لفظ سے سمجھ لیا گیا ہے کہ مسیح اول ہی دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے حالانکہ نزول کے وہ معنی نہیں ہیں جو لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ جب ایک ایسی چیز کی پیدائش کا ذکر کرتے ہیں جو مفید ہو یا پھر ایک ایسے تغیر کا ذکر کرتے ہیں جو بابرکت ہو یا جلالِ الہی کا ظاہر کرنے والا ہو تو اسے عربی زبان میں نزول کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ثُمَّ انْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلى رَسُولِهِ۔(التوبہ : ۲۶) اور پھر فرماتا ہے۔ثُمَّ انْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَةِ آمَنَةً نُّعَاسًا (ال عمران : ۱۵۵) اور فرماتا ہے وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَنِيَةَ أَزْوَاجِ (الزمر:۷) اور فرماتا ہے۔قَد أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَواتِكُمْ وَرِيْشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى لا ذلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَعَلَّهُمْ يَذْكُرُونَ (الاعراف: ۲۷) اور فرماتا ہے۔وَأَنْزَلْنَا عَلَيكُمُ الْمَنَ والسلوى ( البقرة : ٥٨) اور فرماتا ہے وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيْهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَ مَنَافِعُ للنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزُ (الحدید: ۲۶) اور فرماتا ہے وَلَوْ بَسَط اللهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِن يُنَزِلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَاءُ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرُ (الشورى: ۲۸) اب یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ سکینت دل میں پیدا کی جاتی ہے۔نیند دماغ کے فعل کا نام ہے اور چار پائے اور لباس اور کھیتیاں اور بٹیر اور لوہا اور دنیا کی باقی سب چیزیں ایسی ہی ہیں جو اسی زمین پر پیدا ہوتی ہیں۔آسمان سے اترتی ہوئی نہ کسی نے دیکھی ہیں اور نہ اُن کا آسمان سے اتر نا قرآن وحدیث سے ثابت ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ صاف طور پر قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَد رَفِيْهَا أقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءَ لِلسَّائِلِينَ (سورۃ حم سجده : 11) یعنی ہم نے زمین میں