دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 397

دعوت الامیر — Page 31

(ri) دعوة الامير ہے۔ہم نہیں سمجھ سکتے ورنہ ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی شخص بھی جو پورے طور پر اس امر پر غور کرے گا تسلیم کرے گا کہ مسیح کا دوبارہ زندہ کر کے بھیجا اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی علامت ہے۔ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ جو دولتمند ہوتا ہے وہ مستعمل جامہ کو الٹوا کر نہیں سلوایا کرتا بلکہ اُسے اتار کر ضرورت پر اور نیا کپڑ اسلواتا ہے۔غریب اور نادار لوگ ایک ہی چیز کو کئی کئی شکلوں میں بدل بدل کر پہنتے ہیں اور اپنی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں۔کب اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ایسا تنگ ہوا تھا کہ جب اس کے بندوں کو ہدایت اور رہنمائی کی حاجت ہوئی تو اسے کسی وفات یافتہ نبی کو زندہ کر کے بھیجنا پڑا، وہ ہمیشہ بندوں کی ہدایت کے لئے انہیں کے زمانے کے لوگوں میں سے کسی کو منتخب کر کے ان کی اصلاح کے لئے بھیجتا رہا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک ایک دفعہ بھی اس نے ایسا نہیں کیا کہ کسی پچھلے نبی کو زندہ کر کے دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا ہو، اس امر پر تب وہ مجبور ہو جب کسی زمانے کے لوگوں کے دلوں کی صفائی اُسکی قدرت سے باہر ہو جائے اور اس کی حکومت انسانوں پر سے اُٹھ جائے لیکن چونکہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اس لئے یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک وفات یافتہ نبی کو جنت سے نکال کر دنیا کی اصلاح کے لئے بھیج دے۔وہ قادر مطلق ہے۔جب اس نے مسیح علیہ السلام کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان پیدا کر دیا تو اس کی طاقت سے یہ بعید نہیں کہ ایک اور شخص مسیح علیہ السلام جیسا بلکہ اُن سے افضل پیدا کر دے۔غرض مسیح ناصری نبی کے دوبارہ دنیا میں آنے کا انکار ہم اس وجہ سے نہیں کرتے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر نہیں سمجھتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر سمجھتے ہیں کہ وہ جب چاہے اپنے بندوں میں سے کسی کو ہدایت کے منصب پر کھڑا کر دے اور اس کے