دعوت الامیر — Page 337
۳۳۷ دعوة الامير بڑھنا تو ایسا مشکل ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بادشاہ بھی اگر اقتصادی پہلو کونظرانداز کرتے ہوئے شہر بساتے ہیں تو اُن کے بسائے ہوئے شہر ترقی نہیں کرتے اور کچھ دنوں بعد اُجڑ جاتے ہیں اور قادیان موجودہ اقتصادی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت خراب جگہ واقع ہے نہ تو ریل کے کنارے پر ہے کہ لوگ تجارت کی خاطر آکر بس جائیں اور نہ ریل سے اس قدر دور ہے کہ لوگ بوجہ ریل سے دُور ہونے کے اُسی کو اپنا تمدنی مرکز قرار دے لیں۔پس اس کی آبادی کا ترقی پانا بظا ہر حالات بالکل ناممکن تھا عجیب بات یہ ہے کہ قادیان کسی دریا یا نہر کے کنارے پر بھی واقع نہیں کہ یہ دونوں چیزیں بھی بعض دفعہ تجارت کے بڑھانے اور تجارت کو ترقی دے کر قصبے کی آبادی کے بڑھانے میں ممد ہوتی ہیں۔غرض بالکل مخالف حالات میں اور بلا کسی ظاہری سامان کی موجودگی کے حضرت اقدس مسیح موعود نے پیشگوئی کی کہ قادیان بہت ترقی کر جائے گا۔اس پیشگوئی کے شائع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی جماعت کو بھی ترقی دینی شروع کر دی اور ساتھ ہی اُن کے دلوں میں یہ خواہش بھی پیدا کرنی شروع کر دی کہ وہ قادیان آ کر بسیں اور لوگوں نے ہلا کسی تحریک کے شہروں اور قصبوں کو چھوڑ کر قادیان آکر بسنا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں نے بھی یہاں آکر بسنا شروع کر دیا۔ابھی اس پیشگوئی کے پوری طرح پورے ہونے میں تو وقت ہے مگر جس حد تک یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے وہ بھی حیرت انگیز ہے۔اس وقت قادیان کی آبادی ساڑھے چار ہزار یعنی دوگنی سے بھی زیادہ ہے فصیل کی جگہ پر مکانات بن کر قصبے نے باہر کی طرف پھیلنا شروع کر دیا ہے اور اس وقت قصبے کی پرانی آبادی سے قریباً ایک میل تک نئی عمارات بن چکی ہیں اور بڑی بڑی پختہ عمارات اور کھلی سڑکوں نے ایک چھوٹے سے قصبے کو ایک شہر کی حیثیت دے دی ہے بازار نہایت وسیع