دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 397

دعوت الامیر — Page 336

(rry) دعوة الامير تھا کہ دو تین روپئے کا آٹا ایک وقت میں نہیں مل سکتا تھا کیونکہ لوگ زمیندار طبقہ کے تھے اور خود دانے پیس کر روٹی پکاتے تھے۔تعلیم کے لئے ایک مدرسہ سرکاری تھا جو پرائمری تک تھا اور اسی کا مدرس کچھ الاؤنس لیکر ڈاک خانے کا کام بھی کر دیا کرتا تھا۔ڈاک ہفتے میں دو دفعہ آتی تھی۔تمام عمارتیں فصیل قصبہ کے اندر تھیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے ظاہری کوئی سامان نہ تھے کیونکہ قادیان ریل سے گیارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی سڑک بالکل کچی ہے اور جن ملکوں میں ریل ہوان میں اس کے کناروں پر جو شہر واقع ہوں انہیں کی آبادی بڑھتی ہے کوئی کارخانہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے قادیان کی ترقی ہوں نہ ضلع کا مقام تھا نہ تحصیل کا حتی کہ پولیس کی چوکی بھی نہ تھی۔قادیان میں کوئی منڈی بھی نہ تھی جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی ترقی کرتی جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی ہے اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کے مرید بھی چند سو سے زیادہ نہ تھے کہ ان کو حکماً لا کر یہاں بسا دیا جاتا تو شہر بڑھ جاتا۔بے شک کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ آپ نے دعوی کیا تھا اس لیے امید تھی کہ آپ کے مُرید یہاں آکر بس جائیں گے لیکن اول تو کون کہہ سکتا تھا کہ اس قدر مرید ہو جائیں گے جو قادیان کی آبادی کو آکر بڑھا دیں گے ، دوم اس کی مثال کہاں ملتی ہے کہ مرید اپنے کام کاج چھوڑ کر پیر ہی کے پاس آبیٹھیں اور وہیں اپنا گھر بنالیں۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا مولد ناصرہ اب تک ایک گاؤں ہے۔حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ، حضرت شیخ احمد سر ہندی مجد دالف ثانی ، حضرت بہاؤ الدین صاحب نقشبندی رحمتہ اللہ علیہم جو معمولی قصبات میں پیدا ہوئے یا وہاں جا کر بسے اُن کے مولد یا مسکن ویسے کے ویسے ہی رہے۔اُن میں کوئی ترقی نہ ہوئی یا اگر ہوئی تو معمولی جو ہمیشہ ترقی کے زمانے میں ہو جاتی ہے۔شہروں کا