دعوت الامیر — Page 329
(rra) دعوة الامير کے شہزادے اور اُس کی بیوی کا قتل ہوا تھا کہ سب دنیا آگ میں کود پڑی۔ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ اس کے دوران میں ایسے مواقع نکلیں گے کہ عربوں کے لیے مفید ہوں گے اور عرب ان مواقع سے فائدہ اُٹھائیں گے اور سب جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ترکوں کے جنگ میں شامل ہونے پر عربوں نے دیکھا کہ وہ قومی آزادی کی خواہش جو صدیوں سے اُن کے دلوں میں پیدا ہو کر مر جاتی تھی اس کے پورا کرنے کا موقع آگیا ہے اور وہ سب یکدم ترکوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور فوج در فوج ترکوں کے مقابلے کے لیے نکل پڑے اور آخر آزادی حاصل کر لی۔ایک علامت یہ تھی کہ جس طرح میرا ذکر مٹ گیا ہے اسی طرح گھر برباد کر دیئے جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔سب سے زیادہ عیاشی میں مبتلا ء علاقہ فرانس کا مشرقی علاقہ تھا۔تمام یورپ کو شراب وہیں سے بہم پہنچائی جاتی تھی اور عیش وعشرت کو پسند کرنے والے کل مغربی ممالک سے وہاں جمع ہوتے تھے۔سو اس علاقے کوسب سے زیادہ نقصان اُٹھانا پڑا جس طرح خدا کا ذکر وہاں سے مٹ گیا تھا وہاں کے درودیوار اسی طرح مٹادیئے گئے۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ ہماری فتح ہوگی۔یعنی جس حکومت کے ساتھ مسیح موعود کی جماعت ہوگی اس کو فتح حاصل ہوگی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کی دعاؤں کے طفیل برطانیہ کو اس خطر ناک مصیبت سے نجات دی، گو اُس کے مد بر تو یہ خیال کرتے ہوں گے کہ ان کی تدبیروں سے یہ فتح ہوئی ہے لیکن اگر واقعات پر ایک تفصیلی نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حیرت انگیز اتفاقات انگریزوں کی فتح کا موجب