دعوت الامیر — Page 308
(r۔) ساتویں پیشگوئی دعوة الامير طاعون کی پیشگوئی جس سے ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالی تمام باریک در بار یک اسباب کا مالک ہے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ملک کے متعلق حضرت اقدس کی پیشگوئیاں بیان کرنے کے بعد میں نے چار پیشگوئیاں ایسی بیان کی ہیں جن سے تین قوموں پر حجت تمام کی گئی ہے۔اب میں ایک ایسی پیشگوئی بیان کرتا ہوں جس سے تمام اقوام ہند اور ان کے ذریعے سے تمام دنیا پر حجت قائم کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ وہ باریک در بار یک اسباب پر قادر ہے اور ان کو اپنے مامور کی تائید میں لگاتا ہے۔اس قسم کی پیشگوئیاں بھی حضرت اقدس نے بہت سی کی ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پوری ہو چکی ہیں اور بعض آئندہ پوری ہوں گی۔مگر میں ان میں سے مثال کے طور پر طاعون کی پیشگوئی کو لیتا ہوں جس میں یہ خصوصیت ہے کہ اس کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی دی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ بیماری مسیح موعود کے وقت میں پھوٹے گی۔(کنز العمال جلد ۱۴ صفحہ ۳۴۳ روایت ۳۸۸۷۹ مطبوعه حلب (۱۹۷۵ء) جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق رمضان کی تیرہ تاریخ کو چاند گرہن اور اٹھائیں" تاریخ کو سورج گرہن ہوا تو اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کو بتایا گیا کہ اگر لوگوں نے اس نشان سے فائدہ نہ اُٹھایا اور تجھے قبول نہ کیا تو اُن پر ایک عام عذاب نازل ہو گا چنانچہ آپ کے اپنے الفاظ یہ ہیں۔وَحَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّ