دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 397

دعوت الامیر — Page 297

(+92) دعوة الامير کرنا شروع کیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں جائز ہیں درحقیقت اس مسئلہ کی تہہ میں اس کا اپنا ارادہ شادی کا ہے چنانچہ اس نے اس بڑھیا کے خطوط جو ڈوئی کے خطوں کے جواب میں آئے تھے لوگوں کو دکھائے۔اس پر لوگوں کا غصہ اور بھی بھڑ کا اور جماعت کے اس روپیہ کا حساب دیکھا گیا جو اس کے پاس رہتا تھا اور معلوم ہوا کہ اُس نے اُس میں سے پچاس لاکھ روپیہ بین کر لیا ہے اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ شہر کی کئی نوجوان لڑکیوں کو اس نے خفیہ طور پر ایک لاکھ سے زائد روپیہ کے تحائف دیئے ہیں اس پر اس جماعت کی طرف سے اُسے ایک تار دیا گیا جس کے الفاظ یہ ہیں تمام جماعت بالا تفاق تمہاری فضول خرچی ، ریا کاری ، غلط بیانی ، مبالغہ آمیز کلام، لوگوں کے مال کے ناجائز استعمال ، ظلم اور غصب پر سخت اعتراض کرتی ہے اس واسطے تمہیں تمہارے عہدے سے معطل کیا جاتا ہے۔“ ڈوئی ان الزامات کی تردید نہ کر سکا اور آخر سب مرید اس کے مخالف ہو گئے۔اُس نے چاہا کہ خود اپنے مریدوں کے سامنے آکر اُن کو اپنی طرف مائل کرے مگر سٹیشن پر سوائے چند لوگوں کے کوئی اس کے استقبال کو نہ آیا اور کسی نے اس کی بات کی طرف توجہ نہ کی۔آخر وہ عدالتوں کی طرف متوجہ ہوا مگر وہاں سے بھی اس کو قومی فنڈ پر قبضہ نہ ملا اور صرف ایک قلیل گزارہ دیا گیا اور اس کی حالت ناچاری کی یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کے حبشی نوکر اس کو اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر رکھتے تھے اور سخت تکلیف اور دُکھ کی زندگی وہ بسر کرتا تھا۔اُس کی تکلیف اور دُکھ کو دیکھ کر اس کے دو چار ملنے والوں نے جو ابھی تک اس سے ملتے تھے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنا علاج کروائے ، مگر وہ علاج کرانے سے اس بناء پر انکار کرتا رہا کہ لوگ کہیں گے کہ یہ لوگوں کو تو علاج سے منع کرتا تھا اور خود علاج کراتا ہے۔آخر جبکہ اس کے ایک لاکھ سے زیادہ مریدوں میں سے صرف دوسو کے قریب باقی رہ گئے